تذکرہ — Page 508
مبارک کو لے لو۔اسی حالت ِرؤیامیں یہ بھی خیال آیا کہ شاستری کی پیشگوئی غلط نکلی۔‘‘ ( الحکم۱؎ جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخہ ۳۰ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۹؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’آج ۲۹؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے۔سو مَیں محض ہمدردی ٔ مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دُنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پاچکی ہے کہ ایک شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دُنیا؎۲پر آوے گی جس کا نام خدا تعالیٰ ۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ پر یہ رؤیا یوں درج ہے۔’’گزشتہ رات کو ۲ بجنے میں سات منٹ باقی تھے جب کہ ہم نے یہ رؤیا دیکھا کہ زمین ہلتی ہے۔پہلے ہم نے خیال کیا کہ شاید ویسے ہی کچھ حرکت ہوئی ہے مگر پھر زور سے ایک دھکا لگا۔تب یقین ہوا کہ زلزلہ ہے اور میں گھر کے آدمیوں کو جگاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اُٹھو۔زلزلہ آیا۔مبارک کو بھی اُٹھالو اور یہ بھی رؤیا میں کہتا ہوں کہ جوتشی کس قدر جھوٹے ہیں۔پنڈت نے تو اخبار میں چھپوایا تھا کہ اب زلزلہ نہیں آئے گا اس کے بعد بیداری ہوئی۔‘‘ ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ آفت جس کا نام اُس نے زلزلہ رکھا ہے نمونۂ قیامت ہوگا اور پہلے سے بڑھ کر اس کا ظہور ہوگا… اگر چہ بظاہر لفظ زلزلہ کا آیا ہے مگر ممکن ہے کہ وہ کوئی اَور آفت ہو جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہو مگر نہایت شدید آفت ہو جو پہلے سے بھی زیادہ تباہی ڈالنے والی ہو جس کا سخت اثر مکانات پر بھی پڑے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ زلزلہ تیری ہی زندگی میں آئے گا اور اس زلزلہ کے آنے سے تیرے لئے فتح نمایاں ہوگی اور ایک مخلوقِ کثیر تیری جماعت میں داخل ہوجائے گی اور تیرے لئے وہ آسمانی نشان ہوگا۔تیری تائید کے لئے خدا خود اُترے گا اور اپنے عجائب کام دکھلائے گا جو کبھی دُنیا نے نہیں دیکھے اور دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور تیری جماعت میں داخل ہوں گے اور وہ زلزلہ پہلے زلزلہ سے بڑھ کر ہوگا اور اس میں قیامت کے آثار ظاہر ہوں گے اور دُنیا میں ایک انقلاب پیدا کرے گا اور خدا فرماتا ہے کہ مَیں اُس وقت آؤں گا کہ جب دل سخت ہوجائیں گے اور زلزلہ آنے کے خیال سے لوگ اطمینان حاصل کرلیں گے اور خدا فرماتا ہے کہ مَیں مخفی طور پر آؤں گا اور مَیں ایسے وقت میں آؤں گا کہ کسی کو بھی اطلاع نہیں ہوگی۔یعنی لوگ اپنے دُنیا کے کاروبار میں سرگرمی اور اطمینان سے مشغول ہوں گے کہ یک دفعہ وہ آفت نازل ہوجائے گی اور اس سے پہلے لوگ تسلّی کر بیٹھے ہوں گے کہ زلزلہ نہیں آئے گا اور اپنے تئیں بے خطر اور امن میں سمجھ لیا ہوگا تب یک دفعہ یہ آفت ان کے سروں پر ٹوٹے گی مگر خدا فرماتا ہے کہ وہ بہار کے دن ہوں گے۔آفتاب بہار کی صبح میں نمودار ہوگا اور خزاں کی شام میں غروب کرے گا تب کئی گھروں میں ماتم پڑے گا کیونکہ انہوں نے وقت کو شناخت نہ کیا۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵۳ تا ۲۵۵)