تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 506 of 1089

تذکرہ — Page 506

پسند کیا اور اس میں دو خیمے لگائے اور اِردگرد قناتوں سے پَردہ کرادیا مگر پھر بھی چوروں کا خطرہ تھا کیونکہ جنگل تھا۔اس کے قریب ہی بعض دیہات میں نامی چور رہتے ہیں جو کئی مرتبہ سزا پاچکے ہیں۔ایک مرتبہ رات کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں پہرہ کے لئے پھرتا ہوں۔جب مَیں چند قدم گیا تو ایک شخص مجھے ملا اور اُس نے کہا کہ آگے فرشتوں کا پہرہ ہے یعنی تمہارے پہرہ کی کچھ ضرورت نہیں تمہاری فرودگاہ کے اِرد گرد فرشتے پہرہ دے رہے ہیں۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔اَمن اَست دَر مقامِ محبّت سرائے ما پھر چند روز کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اِرد گرد کے دیہات میں سے ایک گاؤں کا باشندہ جو نامی چور تھا چوری کے ارادہ سے ہمارے باغ میں آیا اور اس کا نام بشن سِنگھ تھا۔رات کا پچھلا حصّہ تھا جب وہ اِس ارادہ سے باغ میں داخل ہوا مگر موقعہ نہ ملنے سے ایک پیاز کے کھیت میں بیٹھ گیا اور بہت سی پیاز اس نے توڑی اور ایک ڈھیر لگادیا اور پھر کسی نے دیکھ لیا تب وہاں سے دوڑا اور وہ اِس قدر قوی ہیکل تھا کہ اس کو دس آدمی بھی پکڑ نہ سکتے اگر خدا کی پیشگوئی نے پہلے سے اُس کو پکڑا ہوا نہ ہوتا۔دَوڑنے کے وقت ایک گڑھے میں پَیر اس کا جاپڑا۔پھر بھی وہ سنبھل کر اُٹھا۔مگر آگے پیچھے سے لوگ پہنچ گئے اور اس طرح پر سردار بشن سِنگھ باوجود اپنی سخت کوشش کے پکڑے گئے اور عدالت میں جاتے ہی سزا یاب ہوگئے۔بعد اس کے ہمارے سکونتی مکان میں سے جو باغ میں ہے جس میں ہم دن کے وقت رہتے تھے ایک بڑا سانپ نکلا جو ایک زہریلا سانپ تھا اور بڑا لمبا تھا وہ بھی اس چور کی طرح اپنی سزا کو پہنچا اور اِس طرح پر فرشتوں کی حفاظت کا ثبوت ہمیں دست بدست مِل گیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۱۵، ۳۱۶) ۲۲؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’جَآءَ کَ الْفَتْحُ ‘‘ ؎۲ (بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۴؍ اپریل۱۹۰۵ء ۱۔’’تما م حوادِث اور عجائباتِ قدرت دِکھلانے کے بعد تیرا ۴؎حادثہ ہوگا۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۹۰ حاشیہ ) ۱ (ترجمہ) تیرے پاس فتح آئی۔(بدر مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۲ (نوٹ از ناشر) کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۲ میں اس الہام کے الفاظ یوں مندرج ہیں۔’’تمام حوادث اور عجائباتِ قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔‘‘