تذکرہ — Page 484
۳۰؍جون۱۹۰۴ء ’’فرمایا کہ صبح کو یہ فقرہ الہام ہوا۔خدا تیری ساری مرادیں پوری کردے گا۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر۲۷ مورخہ۱۶؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ۴۔الحکم جلد ۸ نمبر۲۲ مورخہ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲) جون۱۹۰۴ء ’’مولوی محمد علی صاحب کورؤیامیں کہا۔آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر۲۹مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۲۶؍جولائی ۱۹۰۴ء رؤیا۔’’بوقت فجر۔دیکھا کہ ہم قادیان گئے ہیں۔اپنے دروازے کے سامنے کھڑے ہیں۔ایک عورت نے کہا۔اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔اور پوچھا کہ راضی خوشی آئے۔خیرو عافیت سے آئے۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵، ۲۶ مورخہ ۳۱ ؍جولائی و ۱۰ ؍اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۵) ۲۷؍جولائی۱۹۰۴ء ’’ایک نظارہ دکھایا گیا کہ کوئی اَمر پیش کیا گیا ہے۔پھر الہام ہوا۔اِنَّـا اَنْـزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْ رِ۔اِنَّـا اَنْـزَلْنَاہُ لِلْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ۔‘‘؎۱ (الحکم۲؎ جلد ۸ نمبر ۲۵، ۲۶ مورخہ ۳۱ ؍جولائی و ۱۰ ؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۵) ۲۹؍جولائی۱۹۰۴ء (الف) ’’دیکھا کہ بڑے؎۳ مرزا صاحب مرحوم نے ایک بڑی لوئی سیاہ رنگ کی بنوائی ہے جو کہ حاجی بافندہ لے کر آیا ہے اور گویا مرزا صاحب مرحوم کی طرف سے کہتا ہے کہ یہ اس کام ( یعنی کوئی نالش کرنی ہے یا ایسا ہی کوئی کام ہے) کے لئے بنوائی تھی لیکن اب آپ کا ارادہ اس کے لئے نہیں تو رکھ چھوڑو کسی اَور کام آئے گی۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵، ۲۶ مورخہ ۳۱؍جولائی، ۱۰؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۵) (ب) ’’مبارک سَو مبارک۔آسمانی تائیدیں ہمارے ساتھ ہیں۔اَجْرُکَ قَآئِمٌ وَّ ذِکْـرُکَ دَآئِمٌ۔‘‘؎۴ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲۵، ۲۶ مورخہ ۳۱ ؍جولائی، ۱۰ ؍ اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۵۔البدر جلد ۳ نمبر۲۹مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ہم نے اُسے لیلۃالقدر میں اُتارا ہے۔ہم نے اُسے مسیح موعود کے لئے اُتارا ہے۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ الہام البدر مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۴ میں بھی ہے مگر اس میں الہام کے متعلق وہ تشریح نہیں جو الحکم میں دی گئی ہے۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب۔۴ (ترجمہ از مرتّب) تیرا اَجر ثابت ہے اور تیرا ذِکر دائم رہنے والا ہے۔