تذکرہ — Page 24
دی ہے وہ ظاہر ہے۔ایسا فقرہ مقام محبت میں استعمال ہوتا ہے اورخاص شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے ہر ایک کے لئے استعمال نہیں ہوتا ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ۲۵۴ حاشیہ) ۱۸۷۷ء ’’ تخمیناً پندرہ یاسولہ سال کا عرصہ گذرا ہوگا یا شاید اس سے کچھ زیادہ ہوکہ اِس عاجز نے اسلام کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام رلیا رام تھا اور وہ وکیل بھی تھا اور امرتسر میں رہتا تھا اور اُس کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں، بھیجا، اور اُس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا۔چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کے لئے تاکید بھی تھی اس لئے وہ عیسائی مخالفت ِ مذہب کی و جہ سے افروختہ ہوا اور اتفاقاً اُس کو دشمنانہ حملہ کے لئے یہ موقع ملا کہ کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانوناً ایک جرم تھا جس کی اس عاجز کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی اور ایسے جرم کی سزا میں قوانین ڈاک کے رُو سے پانسو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید؎۱ہے۔سو اس نے مخبر بن کر افسرانِ ڈاک سے اس عاجز پر مقدمہ دائر کرادیا اور قبل اس کے جو مجھے اِس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو رؤیامیں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لئے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے اُسے مچھلی کی طرح تل کر واپس بھیج دیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر وہ مقدمہ جس طرز سے عدالت میں فیصلہ پایا وہ ایک ایسی نظیر ہے جو وکیلوں کے کام میں آسکتی ہے۔غرض میں اِس جرم میں صدر ضلع گورداسپورہ میں طلب کیا گیا اور جن جن وکلاء سے مقدمہ کے لئے مشورہ لیا گیا اُنہوں نے یہی مشورہ دیا کہ بجز دروغ گوئی کے اور کوئی راہ نہیں اور یہ صلاح دی کہ اِس طرح اظہار دے دو کہ ہم نے پیکٹ میں خط نہیں ڈالا رلیا رام نے خود ڈال دیا ہوگا اور نیز بطور تسلی دہی کےکہا کہ ایسا بیان کرنے سے شہادت پرفیصلہ ہوجائے گا اور دو چار جھوٹے گواہ دے کر بریّت ہوجائے گی ورنہ صورت مقدمہ سخت مشکل ہے اور کوئی طریق رہائی نہیں مگر میں نے اُن سب کو جواب دیا کہ میں کسی حالت میں راستی کو چھوڑنا نہیں چاہتا جو ہوگا سو ہوگا۔تب اُسی دن یا دوسرے دن مجھے ایک انگریز کی عدالت میں پیش کیا گیا اور میرے مقابل پر ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) جس زمانہ کا یہ واقعہ ہے اُس زمانہ میں یہ قانون تھا۔دیکھئے ۱۸۶۶ء کے ایکٹ نمبر ۱۴ دفعہ ۱۲، ۵۶ اور نیز گورنمنٹ آف انڈیا کے نوٹیفیکیشن نمبر ۲۴۲۴ مورخہ ۷؍دسمبر ۱۸۷۷ء دفعہ ۴۳۔