تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 1089

تذکرہ — Page 426

جو مجھے ایک دوا دی ہے سپاری جیسی شکل ہے اور کچھ جائفل کی شکل ہے ٹکڑے جائفل کے معلوم ہوتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہیں پھر میری آنکھ کھل گئی۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳) ۲۸؍ جنوری ۱۹۰۳ء (الف) ’’ اس وقت مجھے اوّل ایک کشفی صورت میں خواب کے ذریعہ سے دکھلایا گیا ہے کہ میرے گھر میں (یعنی اُمّ المؤمنین) کہتے ہیں کہ اگر مَیں فوت ہوجاؤں تو میری تجہیز و تکفین آپ خود اپنے ہاتھ سے کرنا۔اس کے بعد مجھے ایک بڑا منذر الہام ہوا ہے۔غَاسِقُ اللہِ۔‘‘۱؎ ( البدر جلد۲ نمبر۱ ، ۲ مورخہ۲۳ ،۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۷ ) (ب) ’’ مجھے اس کے یہ معنے۲؎ معلوم ہوئے ہیں کہ جو بچہ؎۳ میرے ہاں پیدا ہونے والا ہے۔بقیہ حاشیہ۔مولوی محمد احسن صاحب مجھے ایک گانٹھ سونٹھ یا سپاری کی اور جائفل دے رہے ہیں کہ اسے منہ میں رکھو۔اس خواب کے بعد مجھے دو گھنٹہ تک بالکل آرام رہا اور اب بھی تکلیف تو ہے مگر بہت کم اور ۲۶؍جنوری کی سیر میں آپ نے فرمایا۔رات کو مَیں نے سونٹھ اور جائفل منہ میں رکھا تھا۔اس سے کھانسی کو بہت ہی آرام ہے۔‘‘ ۱ (نوٹ از الحکم) ’’۲۸؍جنوری ۱۹۰۳ء آج صبح کو چار ساڑھے چاربجے کے قریب مشکوئے معلّٰی میں صاحبزادی پیدا ہوئی جس کے متعلق گزشتہ شب کو پیدا ہونے سے پہلے غَاسِقُ اللّٰہِ کا الہام ہوا تھا۔الحکم۴؎ کی گزشتہ اشاعت میں جو یہ درج ہوا ہے کہ الہام بعد میں ہوا تھا یہ سہو ہوا ہے۔اصل یوں ہے کہ بچہ پیدا ہونے سے قریباً چار گھنٹے پیشتر یہ الہام حضرت اقدسؑ کو ہوا تھا جو اس وقت آپ نے تشریف لا کر مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب کو سنایا اس قت رات کے ۱۲ بجے تھے۔حضرت حجۃ اللہ نے مولوی صاحب کے دروازہ پر دستک دی۔مولوی صاحب نے جب پوچھا کہ کون ہے تو فرمایا غلام احمد۔پھر آپ نے یہ الہام مولوی صاحب کو سنایا اور ایک رؤیا بھی سنائی جو اسی وقت دیکھی تھی کہ حضرت حجۃ اللہ کو حضرت ام المؤمنین کہتی ہیں کہ اگر میرا انتقال ہوجاوے تو آپ اپنے ہاتھ سے میری تجہیز و تکفین کریں۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’ میں نے اِس سے پیشتر یہ خیال کیا تھا کہ چونکہ عنقریب گھر میں وضع حمل ہونے والا ہے۔تو شاید مولود کی وفات پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔مگر بعد میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ اس سے مراد ابتلا ہے اجتہادی امور ایسے ہی ہوا کرتے ہیں کہ اوّل خیال کسی اور طرف چلا جاتا ہے غرضیکہ اس کے معنے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی امر بطور ابتلا کے ہے اور اس سے جماعت کا ابتلا مُراد نہیں ہے بلکہ منکرین کا جو کہ جہالت، نادانی، افترا سے کام لیتے ہیں… تاریکی جب خدا کی طرف منسوب ہو تو دشمن کی آنکھ میں ابتلاء کا موقع اس سے مراد ہوتا ہے اور اس لئے اس کو غاسق اللہ کہتے ہیں۔‘‘ (البدر مورخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۴۳) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ بچہ صاحبزادی امۃ النصیر صاحبہ تھیں جو ۲۸؍جنوری ۱۹۰۳ء کو ساڑھے چار بجے کے قریب پیدا ہوئیں اور ۳؍ستمبر ۱۹۰۳ء کو فوت ہوئیں۔دیکھئے غیر معمولی پرچہ الحکم مورخہ ۳؍دسمبر ۱۹۰۳ء۔۴ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵