تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 1089

تذکرہ — Page 427

وہ زندہ نہ رہے گا۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۱و ۲ مورخہ۲۳ و ۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۸) (ج) ۲۸ ؍جنوری ۱۹۰۳ء م ۲۸؍ شوال ۱۳۲۰ھ ۱۔’’۱۔سَیُکْرِ۱؎مُکَ اللہُ اِکْــرَامًا عَـجَبًا۔۲؎ ۲۔اس کے ساتھ دیکھا کہ ایک قیمتی چوغہ سنہری رنگ کا میرے پاس ہے میں نے کہا کہ میں اس کو عید کے دن پہنوں گا۔۳۔پھر دیکھا کہ جہلم کی کچہری میں ہم ہیں اور سنسار چند کے کمرہ میں نہیں بلکہ کسی اور حاکم کے کمرہ کی طرف جارہے ہیں۔(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۳) ۲۔۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ عِـبَادِہٖ یُــوَاسِیْکَ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۔البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۲۳؍ و ۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۔الحکم جلد ۷ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵) ۲۹ ؍جنوری ۱۹۰۳ء ’’ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ۔اُصَلِّیْ وَ اَصُوْمُ۔یَا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَ الطَّیْرَ۔قَدْ بَعُدُ۔وْا مِنْ مَّآءِ الْـحَیَاۃِ فَسَحِّقْھُمْ تَسْحِیْقًا۔‘‘؎۴ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۳) ۳۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء ۱۔’’ لَا یَـمُوْتُ اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِکُمْ۔‘‘؎۵ ۲۔’’ اسی۶؎ رات خواب میں دیکھا کہ گویا زارِ روس کا سوٹا میرے ہاتھ میں ہے اور اس میں پوشیدہ طور پر ۱ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ۲۳؍ و ۳۰ ؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸ اور الحکم مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ میں یہ الہام ان الفاظ میں درج ہے۔’’سَاُکْرِمُکَ اِکْــرَامًا عَـجَبًا۔‘‘ نیز البدر مورخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۳ میں تحریر ہے کہ ’’اس الہام میں عَـجَبًا کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی نہایت ہی مؤثر بات ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از ناشر) ۱۔عنقریب اللہ تعالیٰ عجیب طور پر تیری بزرگی ظاہر کردے گا۔۳ (ترجمہ) خدا اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔وہ تیری غمخواری کرے گا۔( البدر مورخہ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۲۴) ۴ (ترجمہ از مرتّب) مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔مَیں خاص رحمتیں نازل کروں گا اور عذاب کو روکوں گا اے پہاڑو اور اے پرندو! میرے اس بندہ کے ساتھ وجد اور رقّت سے میری یاد کرو۔وہ زندگی کے پانی سے دُور ہوگئے ہیں۔پس تو انہیں اچھی طرح پیس ڈال۔۵ (ترجمہ از مرتّب) تمہارے خاص آدمیوں میں سے کوئی نہیں مرے گا۔(نوٹ) البدر میں درج ہے کہ اس الہام کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’اس کے حقیقی معنے کہ تمہارے رِجال میں کوئی نہ مرے گا تو ہو نہیں سکتے کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی نے زندہ رہنا ہے۔مگر اس کے مفہوم کا پتہ نہیں ہے۔شاید کوئی اَور معنے ہوں۔‘‘ (البدر مورخہ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۲۴) ۶ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی جس رات الہام ’’ لَا یَـمُوْتُ اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ ہوا تھا۔