تذکرہ — Page 317
ذَالِکَ سُـمِّیَ الضَّحَایَا قُرْبَانًا۔بِـمَا وَرَدَ اِنَّـھَا تَزِیْدُ قُرْبًا وَ لُقْیَانًا۔کُلَّ مَنْ قَرَّبَ اِخْلَاصًا وَتَعَبُّدًا وَ اِیْـمَانًا۔وَ اِنَّـھَا مِنْ اَعْظَمِ نُسُکِ الشَّـرِیْعَۃِ۔وَ لِذَالِکَ سُـمِّیَتْ بِالنَّسِیْکَۃِ۔وَالنُّسُکُ اَلطَّاعَۃُ وَ الْعِبَادَۃُ فِی اللِّسَانِ الْعَرَبِیَّۃِ۔وَ کَذَالِکَ جَآءَ لَفْظُ النُّسُکِ بِـمَعْـنَی ذَبْـحِ الذَّ بِیْحَۃِ۔فَھٰذَا الْاِشْتِـرَاکُ یَدُلُّ قَـطْعًا عَلٰی اَنَّ الْعَابِدَ فِی الْـحَقِیْقَۃِ ھُوَ الَّذِیْ ذَبَـحَ نَفْسَہٗ وَ قُوَاہُ۔وَ کُلَّ مَنْ اَصْبَاہُ لِرِضٰی رَبِّ الْـخَلِیْقَۃِ وَ ذَبَّ الْھَوٰی۔حَـتّٰی تَـھَافَتَ وَانْـمَحٰی۔وَ ذَابَ وَ غَابَ وَ اخْتَفٰی۔وَ ھَبَّتْ عَلَیْہِ عَـوَاصِفُ الفَنَاءِ۔وَ سَفَتْ ذَرَّاتِہٖ شَدَائِدُ ھٰذِہِ الْھَـوْجَاءِ۔وَ مَنْ فَکَّرَ فِیْ ھٰذَیْنِ الْـمَـفْھُـوْمَیْنِ الْمُشْتَـرِکَیْنِ۔وَ تَدَ۔بَّـرَ الْمَقَامَ بِتَیَقُّظِ الْقَلْبِ وَ فَتْحِ الْعَیْنَیْنِ۔فَلَا یَبْقٰی لَہٗ خَفَاءٌ وَلَا مِرَآءٌ۔فِیْ اَنَّ ھٰذَا اِیْمَآءٌ۔اِلٰی اَنَّ الْعِبَادَۃَ بقیہ ترجمہ۔ہونے والے جانوروں کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نَسِیْکَہ ہے اور نُـسُک کا لفظ عربی زبان میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نُـسُک اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔پس یہ اشتراک کہ جو نُـسُککے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستاراور سچا عابد وہی شخص ہے جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دِل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رضا جوئی کے لئے ذبح کر ڈالا ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گِر پڑیں اور نابود ہوگئیں اور وہ خود بھی گداز ہوگیا اور اس کے وجود کا کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا اور فنا کی تند ہوائیں اس پر چلیں اور اس کے وجود کے ذرّات کو اس ہوا کے سخت دھکّے اُڑا کر لے گئے۔اور جس شخص نے ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسک کے لفظ میںمشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبّر کی نگاہ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش وپس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نسک کے لفظ میں پایا جاتاہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ