تذکرہ — Page 10
الصَّالِـحِیْنَ۔بَعْضُھُمْ مِّنْ ھٰذَا الْمُلْکِ وَبَعْضُہُمْ مِّنَ الْعَرَبِ وَبَعْضُہُمْ مِّنْ فَارِسَ وَ بَعْضُہُمْ مِّنْ بِلَادِ الشَّامِ وَ بَعْضُہُمْ مِّنْ اَرْضِ الرُّوْمِ وَ بَعْضُہُمْ مِّنْ بِلَادٍ لَّا اَعْرِفُھَا ثُمَّ قِیْلَ لِیْ مِنْ حَضْرَۃِ الْغَیْبِ اِنَّ ھٰٓؤُ لَاءِ یُصَدِّقُوْنَکَ وَ یُؤْ مِنُوْنَ بِکَ وَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ وَیَدْ عُوْنَ لَکَ وَاُعْطِیْ لَکَ بَرَکَاتٍ حَتّٰی یَتَبَرَّکَ الْمُلُوْکُ بِثِیَابِکَ وَ اُدْخِلُھُمْ فِی الْمُخْلِصِیْنَ۔ھٰذَا رَاَیْتُ فِی الْمَنَامِ وَاُلْھِمْتُ مِنَ اللّٰہِ الْعَلَّامِ۔‘‘ (لُـجّۃ النّور۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۳۳۹،۳۴۰) ۱۸۷۰ء (الف) ’’عرصہ تخمیناًبارہ برس کا ہوا ہے کہ ایک ہندو ؎۱ صاحب کہ جو اَب آریہ سماج قادیان کے ممبر اور صحیح و سلامت موجود ہیں۔حضرت خاتم الرّسل صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آنجناب کی پیشین گوئیوں سے سخت منکر تھا… اس ہندو صاحب کا ایک عزیز ؎۲کسی ناگہانی پیچ میں آکر قید ہوگیا اور اُس کے ہمراہ ایک اور ہندو؎۳ بھی قید ہوا اور اُن دونوں کا چیف کورٹ میں اپیل گزرا۔اُس حیرانی اور سرگردانی کی حالت میں ایک دن اُس آریہ صاحب نے مجھ سے یہ بات کہی کہ غیبی خبر اِسے کہتے ہیں کہ آج کوئی یہ بتلاسکے کہ اس ہمارے مقدمہ کا انجام کیا ہے… تب میرے دل میں خدا کی طرف سے یہی جوش ڈالا گیا کہ خدا اُس کو اسی مقدمہ میں شرمندہ اور لاجواب کرے اور مَیں نے دعا کی کہ اے خداوند ِ کریم تیرے نبی کریمؐ کی عزت اور عظمت سے یہ شخص سخت منکر ہے اور تیرے نشانوں اور پیشین گوئیوں سے جو تُونے اپنے رسول پر ظاہر فرمائیں سخت انکاری ہے اور اس مقدمہ کی آخری حقیقت کھلنے سے یہ لاجواب ہوسکتا ہے اور تو ہربات پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی امر تیرے علم محیط سے مخفی نہیں۔تب خدا نے جو اپنے سچے دین اسلام کا حامی ہے اور اپنے رسولؐ کی عزت اور عظمت چاہتا ہے رات کے بقیہ ترجمہ۔جن میں سے بعض اسی ملک (ہند ) کے تھے اور بعض عرب کے۔بعض فارس کے اور بعض شام کے بعض روم کے اور بعض دوسرے بلاد کے تھے جن کو مَیں نہیں جانتا۔اس کے بعد مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان لائیں گے اور تجھ پر درود بھیجیں گے اورتیرے لئے دعائیں کریں گے اور میں تجھے بہت برکتیں دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور میں ان کو مخلصوں میں داخل کروں گا۔یہ وہ خواب ہے جو میں نے دیکھی اور وہ الہام ہے جو خدائے علّام کی طرف سے مجھے ہوا۔۱ لالہ شرمپت (مرزا بشیر احمد) ۲ لالہ بشمبر داس (مرزا بشیر احمد) ۳ خوشحال چَند نامی (مرزا بشیر احمد)