تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 1089

تذکرہ — Page 256

تَـحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔وَ بِعِزَّتِیْ وَ جَلَالِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔وَنُـمَزِّقُ الْاَعْدَآءَ کُلَّ مُـمَزَّقٍ۔وَمَکْرُ اُولٰٓئِکَ ھُوَ یَبُوْرُ۔اِنَّا نَکْشِفُ السِّـرَّ عَنْ سَاقِہٖ۔یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّـۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔۱۲۹۔وَھٰذَا تَذْکِرَۃٌ فَـمَنْ شَآءَ اتَّـخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔۱۳۰۔اِنَّ النَّصَارٰی حَوَّلُوا الْاَمْرَ۔سَنَرُدُّھَا عَلَی النَّصَارٰی۔۱۳۱۔لَيُنْۢبَذَنَّ فِی الْـحُطَمَۃِ۔۱۳۲۔اِنَّا نُبَشِّـرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ مَظْھَرِ الْـحَقِّ وَالْعَلَآءِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَـزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔۱۳۳۔اِسْـمُہٗ عَـمَانُواِیلْ۔۱۳۴۔یُـوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ۔وَ یُدْنٰی مِنْکَ الْفَضْلُ۔اِنَّ نُـوْرِیْ قَرِیْبٌ۔۱۳۵۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَـرِّ مَا خَلَقَ۔۱۳۶۔عِـجْلٌ جَسَدٌ لَّہٗ خُوَارٌ۔فَلَہٗ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ۔(فارسی و اُردو الہام) ۱۳۷بخرام کہ وقت ِ تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔۱؎ ۱۳۸خدا تیرے سب کام درست کردے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔بقیہ ترجمہ۔غم ناک مت ہو۔اور تم ہی غالب ہو۔اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے۔اور مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ غلبہ تجھی کو ہے۔اور ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔اور ان کا مکر ہلاک ہوجائے گا۔اور ہم حقیقت کو اس کی پنڈلی سے کھول دیں گے۔اُس دن مومن خوش ہوں گے۔اور گروہ پہلوں میں سے اور ایک پچھلوں میں سے۔۱۲۹اور یہ ہے۔پس جو چاہے خدا کی راہ کو اختیار کرے۔۱۳۰نصاریٰ نے حقیقت کو بدلا دیا ہے سو ہم ذلّت اور شکست کو نصاریٰ پر واپس پھینک دیں گے۔۱۳۱اور آتھم نابود کرنے والی آگ میں ڈال دیا جاوے گا۔۱۳۲ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہوگا گویا خدا آسمان سے اُترا۔۱۳۳نام اس کا عمانوایل ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’خدا ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ ۱۳۴تجھے لڑکا دیا جائے گا۔اور خدا کا فضل تجھ سے نزدیک ہوگا۔میرا نُور قریب ہے۔۱۳۵کہہ میں شریر مخلوقات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔۱۳۶یہ بے جان گوسالہ ہے اور بے ہودہ گو یعنی لیکھرام پشاوری ، سواس کو دُکھ کی مار اور عذاب ہوگا یعنی اسی دنیا میں۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۵۱ تا ۶۲) ۱ ترجمہ۔’’اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آ گیا اور اب وہ وقت آرہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر ان کا قدم پڑے گا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۱۱)