تذکرہ — Page 3
فَاَعْطَیْتُہٗ فَاَخَذَ یَـأْکُلُ عَلٰی مَقَامِہٖ کَالْـحَرِیْصِیْنَ۔ثُمَّ رَاَیْتُ اَنَّ کُرْسِیَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ رُفِعَ حَتّٰی قَرُبَ مِنَ السَّقْفِ وَ رَاَیْتُہٗ فَاِذَا وَجْھُہٗ یَتَلَأْ۔لَأُ کَاَنَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ذَرَّتَـا عَلَیْہِ وَکُنْتُ اَنْظُرُ اِلَیْہِ وَ عَبَرَاتِیْ جَارِیَۃٌ ذَوْقًا وَّ وَجْدًا۔ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ وَ اَنَا مِنَ الْبَاکِیْنَ۔فَاَلْقَی اللّٰہُ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ الْمَیِّتَ ھُوَالْاِسْلَامُ۔وَ سَیُحْیِیْہِ اللّٰہُ عَلٰی یَدِیْ بِفُیُوْضٍ رُوْحَانِیَّۃٍ مِّنْ رُّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ مَا یُدْرِیْکُمْ لَعَلَّ الْوَقْتَ قَرِیْبٌ فَکُوْنُوْامِنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ وَ فِیْ ھٰذِہِ الرُّؤْیَـا رَبَّانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ وَسَلَّمَ بِیَدِہٖ وَ کَلَامِہٖ وَ اَنْـوَارِہٖ وَ ھَدِیَّۃِ اَثْـمَارِہٖ۔‘‘؎۱ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ۵۴۸،۵۴۹) (ب) ’’اِس اَحقر نے ۱۸۶۴ء؎۲ یا۱۸۶۵ عیسوی میں یعنی اسی زمانے کے قریب کہ جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حِصّہ میں ہنوز تحصیلِ علم میں مشغول تھا جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اُس وقت اِس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اِس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پُوچھا کہ تُو نے اِس کتاب کا کیا نام رکھا ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام مَیں بقیہ ترجمہ۔مَیں نے دیا تو اس نے حریصوں کی طرح اسی جگہ ہی اسے کھانا شروع کردیا۔پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرسی اونچی ہوگئی ہے حتی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپؐ کا چہرہ مبارک ایسا چمکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعاعیں پڑرہی ہیں۔میں آپؐ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور ذوق اور وجد کی و جہ سے میرے آنسو بہہ رہے تھے۔پھر میں بیدار ہوگیا اور اس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا تب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مُردہ شخص اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پر زندہ کرے گا اور تمہیں کیا پتہ شاید یہ وقت قریب ہو اس لئے تم اس کے منتظر رہو اور اس رؤیامیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست ِ مبارک سے اپنے پاک کلام سے اپنے انوار سے اور اپنے (باغِ قدس کے) پھلوں کے ہدیہ سے میری تربیت فرمائی تھی۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ رؤیا براہین احمدیہ میں بھی مذکور ہے مگر اس میں اس کے شروع کا اور آخر کا حصہ اس تفصیل سے بیان نہیں ہوا اس لئے اسے آئینہ کمالاتِ اسلام میں سے لے کر درج کیا گیا ہے۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ تاریخ غالباً سرسری طورپر ایک موٹے اندازہ کی بناء پر لکھی گئی ہے کیونکہ یہ رؤیا حضور کے زمانہ آغازِ جوانی کا ہے جبکہ آپ ہنوز تحصیلِ علم میں مشغول تھے جس کے بعد کچھ عرصہ آپ سیالکوٹ تشریف فرمارہے اورتریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۵۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ راجہ تیجاسنگھ صاحب کی وفات