تذکرہ — Page 4
نے قطبی رکھا ہے۔جس نام کی تعبیر اَب اِس اشتہاری کتاب؎۱کے تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اورمستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کرکے دس ہزارروپیہ کا اِشتہار دیاگیا ہے۔غرض آنحضرتؐ نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اورجب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجنابؐ کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اورخوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدر تربُوزتھا۔آنحضرتؐ نے جب اُس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہدنکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مِرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مُردہ کہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضرتؐ کے معجزہ سے زندہ ہوکر اس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا اور یہ عاجز آنحضرتؐ کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک مستغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرتؐ بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبردست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرما رہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس غرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں کہ جو نئے سرے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں میرے دامن میں ڈال دیں اور وہ ایک قاش میں نے اُس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھاچکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرتؐ کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرتؐ کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین ِ اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔تب اُسی نُور کے مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۴ تا ۲۷۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱) نوجوانی کے زمانہ میں ’’وَرَاَیْتُ فِیْ غُلَوَآءِ شَبَابِیْ وَ عِنْدَ دَوَاعِی التَّصَابِیْ کَاَنِّیْ دَخَلْتُ فِیْ مَکَانٍ۔وَفِیْہِ حَفَدَتِیْ وَخَدَمِیْ فَقُلْتُ طَھِّرُوْا فِرَاشِیْ فَاِنَّ وَقْتِیْ قَدْ جَآءَ ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ وَخَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ وَذَھَبَ وَھْلِیْ اِلٰی اَنَّنِیْ مِنَ الْمَائِتِیْنَ۔‘‘؎۲ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۴۸) بقیہ حاشیہ۔(جو۱۸۶۲ء میں ہوئی تھی۔دیکھئے کتاب رؤسائے پنجاب) کا واقعہ انہی ایام کا ہے جب حضور سیالکوٹ میں رہتے تھے۔پس یہ رؤیا دراصل ۱۸۶۴ء سے کئی سال قبل کا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔۱ یعنی براہین احمدیہ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ (ترجمہ از مرتّب) میں نے ایک دفعہ اوائل ایامِ جوانی میں اور جب کہ کھیل کود کے اسباب کی طرف طبائع کا میلان