تذکرہ — Page 187
۱۸۹۲ء (الف)’’ میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی تب اُن کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اُس نے جوش میں آکر اور اپنی امّت کو ہلاکت کا مفسدہ پرداز پاکر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا جو اُس کا ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو۔سو اُس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے موافق ایک شبیہ عطا کی اور اس میں مسیح کی ہمّت اور سیرت اور رُوحانیت نازل ہوئی اور اس میں اور مسیح میں بشدّت اِتّصال کیا گیا۔گویا وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے بنائے گئے اور مسیح کی توجُّہات نے اس کے دل کو اپنا قرار گاہ بنایا اور اس میں ہوکر اپنا تقاضا پورا کرنا چاہا۔پس ان معنوں سے اُس کا وجود مسیح کا وجود ٹھہرا اور مسیح کے پُر جوش ارادات اس میں نازل ہوئے جن کا نزول الہامی استعارات میں مسیح کا نزول قرار دیا گیا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۵۴،۲۵۵) (ب) ’’جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا ہے حضرت مسیح کی رُوح اِن افتراؤں کی و جہ سے جو اُن پر اِس زمانہ میں کئے گئے اپنے مثالی نزول کے لئے شدّتِ جوش میں تھی اور خدا تعالیٰ سے درخواست کرتی تھی کہ اِس وقت مثالی طور پر اس کا نزول ہو۔سو خدائے تعالیٰ نے اُس کے جوش کے موافق اُس کی مثال کو دنیا میں بھیجا تا وہ وعدہ پورا ہو جو پہلے سے کیا گیا تھا … حضرت مسیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ اُن کی رُوحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔اوّل جبکہ اُن کے فوت ہونے پر چھ سو برس گذر گیا اور یہودیوں نے اِس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذباللہ مکّار اور کاذب تھا اور اُس کا ناجائز طور پر تولّد تھا اور اسی لئے وہ مصلوب ہوا اور عیسائیوں نے اِس بات پر غلُوّ کیاکہ وہ خدا تھا اور خدا کا بیٹا تھا اور دنیا کو نجات دینے کے لئے اُس نے صلیب پر جان دی… تب بہ اعلام الٰہی مسیح کی رُوحانیت جوش میں آئی اور اُس نے ان تمام الزاموں سے اپنی بریت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا۔تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے… یہ مسیح ناصری کی رُوحانیت کا پہلا جوش تھا جو ہمارے سیّد ہمارے مسیح خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے اپنی مراد کو پہنچا۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ۔پھر دوسری مرتبہ مسیح کی رُوحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجّالیّت کی صفت اتم ّ اور اکمل طور پر آگئی… پس اِس زمانہ میں دوسری مرتبہ حضرت مسیح کی رُوحانیت کو جوش آیا اور انہوں نے دوبارہ مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا اور جب ان میں مثالی نزول کے لئے اشد درجہ کی توجہ اور خواہش پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اُس خواہش کے موافق دجّال موجودہ کے نابود کرنے کے لئے ایسا شخص بھیج دیا جو ان کی رُوحانیت