تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 1089

تذکرہ — Page 173

اسی طرح ایک دفعہ زحیر اور اسہال خونی کی سخت بیماری ہوئی… لیکن اس نازک حالت میں خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک عجیب طور سے شفا بخشی… ایسا ہی اس دوسری بیماری میں جب حال قریب موت ہوا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا۔اَلْاِ بْـرَآءُ سو یقین رکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بیماری سے نجات بخشے گا۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد۲ صفحہ ۱۳۳۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۲ء ’’ بارہا اِس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔‘‘ (نشانِ آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷۵) ۱۸۹۲ء ’’یہ عاجز خدائے تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتا کہ اس تکفیر کے وقت میں کہ ہرایک طرف سے اِس زمانہ کے علماء کی آوازیں آرہی ہیں کہ لَسْتَ مُؤْ مِنًا۔۱؎ اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ نِدا ہے قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔؎۲ ایک طرف حضرات مولوی صاحبان کہہ رہے ہیں کہ کسی طرح اس شخص کی بیخ کنی کرو اور ایک طرف الہام ہوتا ہے یَتَرَ بَّصُوْنَ عَلَیْکَ الدَّ۔وَآئِرَ عَلَیْـھِمْ دَآئِرَۃُ السَّوْءِ۔؎۳ اور ایک طرف وہ کوشش کررہے ہیں کہ اِس شخص کو سخت ذلیل اور رسوا کریں اور ایک طرف خدا وعدہ کررہا ہے۔اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔اَللّٰہُ اَجْرُکَ۔اَللّٰہُ یُعْطِیْکَ جَلَالَکَ۔؎۴ اور ایک طرف مولوی لوگ فتویٰ پر فتویٰ لکھ رہے ہیں کہ اِس شخص کی ہم عقیدگی اور پَیروی سے انسان کافر ہوجاتا ۱ (ترجمہ از ناشر) تو مومن نہیں ہے۔۲ (ترجمہ) کہہ دے کہ میں مامور ہو کر آیا ہوں اور میں اوّل المؤمنین ہوں۔(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۱۰۹، ۱۱۰ حاشیہ) ۳ (ترجمہ از مرتّب) وہ تجھ پر حوادث کے نزول کا انتظار کررہے ہیں۔بُری گردش اُنہی پر پڑے گی۔۴ (ترجمہ از مرتّب) جو تیری ذلّت چاہے مَیں اُسے ذلیل کروںگا۔اللہ تیرا اجر ہے۔اللہ تجھے تیرا جلال عطا کرے گا۔(نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ حضرت اقدس کو ۱۸۹۲ء میں بمقام لاہور شیخ محمد حسین بٹالوی کی نسبت بھی ہوا تھا۔( دیکھیے الحکم مورخہ ۳۰؍ نومبر ۱۸۹۷ء صفحہ ۲)