تذکرہ — Page 158
۱۸۹۱ء ’’چند روز کا ذکر ہے کہ اِس عاجز نے اِس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو اَلْآ یَاتُ بَعْدَ الْمِأَتَیْنِ ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کررکھی تھی اور وہ یہ نام ہے۔غلام ا۱۳۰۰حمد قادیانی اس نام کے عدد پورے ۱۳۰۰تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اِس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اِس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اِس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہٗ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کردیتا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۸۹،۱۹۰) ۱۸۹۱ء (الف) ’’ ایک دفعہ میں نے آدم کے سن پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈال جو سورۃ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہیں میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۱۹۰) (ب) ’’خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد ِنبوت ہے یعنی تیئیس ۲۳ برس کا تمام و کمال زمانہ یہ کل مدّت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ۴۷۳۹ برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روزِ وفات تک قمری حساب؎۱سے ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۲۵۱،۲۵۲) ۱۸۹۱ء ’’ایک شخص کی موت کی نسبت خدا ئےتعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ کَلْبٌ یَـمُوْتُ عَلٰی کَلْبٍ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اور شمسی حساب کے رُو سے۴۵۹۸ برس بعد آدم صفی اللہ حضرت نبیّنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے۔‘‘ ( تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۲۴۷ حاشیہ)