تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 1089

تذکرہ — Page 134

الصَّادِقِیْنَ…… وَکَذَالِکَ سَدَ رُوْا فِیْ غَلَوَاتِـھِمْ وَجَـمَحُوْا فیْ جَھَلَاتِـھِمْ وَسَدَ لُوْا ثَـوْبَ الْخُیَلَآءِ یَـوْمًا فَیَوْمًا۔حَتّٰی بَدَا لَھُمْ اَنْ یُّشِیْعُوْا خُزَعْبِلَاتِـھِمْ وَ یَصْطَادُوا السُّفَھَآءَ بِتَلْبِیْسَاتِھِمْ۔فَکَتَبُوْا کِتَابًا کَانَ فِیْہِ سَبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَبُّ کَلَامِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاِنْکَارُ وُجُوْدِ الْبَارِیِٔ عَزَّ اسْـمُہٗ۔وَمَعَ ذَالِکَ طَلَبُوْا فِیْہِ اٰیَاتِ صِدْقِیْ مِنِّیْ وَ اٰیَاتِ وُجُوْدِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاَرْسَلُوْا کِتَابَـھُمْ فِی الْاٰفَاقِ وَالْاَقْطَارِ وَاَعَانُوْا بِـھَاکَفَرَۃَ الْھِنْدِ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا مَّا سُمِعَ مِثْلُہٗ فِی الْفَرَاعِنَۃِ الْاَوَّلِیْنَ۔فَلَمَّا بَلَغَنِیْ کِتَا۔بُـھُمُ الَّذِيْ کَانَ قَدْ صَنَّفَہٗ کَبِیْرُھُمْ فِی الْـخُبْثِ وَالْعُمُرِ…… فَاِذَا الْکَلِمَاتُ کَلِمَاتٌ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْـھَا…… فَغَلَّقْتُ الْاَ بْوَابَ وَدَعَوْتُ الرَّبَّ الْوَھَّابَ۔وَطَرَحْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ وَخَرَرْتُ اَمَامَہٗ سَاجِدًا…… وَ قُلْتُ یَـا رَبِّ یَـا رَبِّ انْصُـرْ عَبْدَ۔کَ وَاخْذُ۔لْ اَعْدَآ۔ئَکَ۔اِسْتَجِبْنِیْ یَـا رَبِّ اسْتَجِبْنِیْ۔اِلَامَ یُسْتَـھْزَءُ بِکَ وَ بِـرَسُوْلِکَ۔وَ حَتَّامَ یُکَذِّ۔بُـوْنَ کِتَا۔بَکَ وَ یَسُبُّوْنَ نَبِیَّکَ۔بِـرَحْـمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ یَـا حَیُّ یَـا قَیُّوْمُ یَـا مُعِیْنُ۔فَرَحِـمَ رَبِّیْ عَلٰی تَضَرُّعَاتِیْ وَزَفَرَاتِیْ وَ عَبَرَاتِیْ وَنَادَانِیْ وَقَالَ۔اِنِّیْ رَاَیْتُ عِصْیَانَـھُمْ وَطُغْیَانَـھُمْ فَسَوْفَ اَضْرِبُـھُمْ بِاَنْوَاعِ الْاٰفَاتِ اُبِیْدُ۔ھُمْ مِّنْ تَـحْتِ السَّمٰوٰتِ وَ سَتَنْظُرُ مَا اَفْعَلُ بِـھِمْ وَکُنَّاعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَادِرِیْنَ۔اِنِّیْٓ اَجْعَلُ نِسَآءَ ھُمْ اَرَامِلَ وَ اَبْنَآءَھُمْ ۱ Reverend White Brecht ۲ (ترجمہ ازمرتّب) اللہ تعالیٰ نے میرے جدّی بھائیوں اور قریبیوں کو دیکھا کہ وہ مہلک امور میں منہمک ہیں… اور اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر اور مفسد لوگ ہیں … اور اُس نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو بدیوں اور شرارتوں کی طرف بلاتے اور نیکی کے کاموں سے روکتے ہیں … اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بد زبانی سے باز نہیں آتے بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں… اسی دَوران میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے دین کی تجدید کے لئے چُن لیا… اور اپنے الہامات، مخاطبات اور مکاشفات سے مجھے بہرہ ور کیا… جس پر اُنہوں نے سرکشی کی اور تمسخر کے طور پر مجھ سے نشانات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہمیں ایسے معبود کا کوئی علم نہیں جو کسی سے کلام کرتا ہو… اور اگر یہ شخص سچا ہے تو ہمیں کوئی نشان دکھائے… اسی طرح یہ لوگ اپنی حد سے بڑھتے گئے اور اپنی جہالتوں میں سرکش ہوتے گئے اور ان کا تکبر روز بروز بڑھتا گیا حتیٰ کہ انہوں نے اپنے گندے خیالات کی اشاعت شروع کردی اور کم عقل لوگوں کو اپنے فریبوں کا شکار بنانے لگے چنانچہ انہوں نے ایک گندہ اشتہار نکالا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور قرآن کریم کے متعلق بد زبانی کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ہستی کا انکار کیا ہے اور ساتھ ہی مجھ سے میری سچائی کے متعلق نشانات کا مطالبہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت مانگا ہے اور انہوں نے اپنا یہ اشتہار