تذکرہ — Page 117
جنوری ۱۸۸۶ء (الف) ’’اِعْلَمْ اَنَّ زَوْجَۃَ اَحْـمَدَ وَ اَقَارِبَـھَا کَانُوْا مِنْ عَشِیْرَتِیْ۔وَ کَانُوْا لَا یَتَّخِذُوْنَ فِیْ سُبُلِ الدِّیْنِ وَتِیْرَتِیْ۔بَلْ کَانُوْا یَـجْتَرِءُوْنَ عَلَی السَّیِّئَاتِ۔وَاَنْوَاعِ الْبِدْعَاتِ۔وَکَانُوْا فِیْھَا مُفْرِطِیْنَ۔فَاُلْھِمْتُ مِنَ الرَّحْـمَانِ اَنَّہٗ مُعَذِّ بُـھُمْ لَوْ لَمْ یَکُوْنُوْا تَائِبِیْنَ۔وَقَالَ لِیْ رَبِّیْ اِنَّـھُمْ اِنْ لَّمْ یَتُوْبُوْا وَلَمْ یَرْجِعُوْا فَنُنَـزِّلُ عَلَیْـھِمْ رِجْسًا مِّنَ السَّمٰوَاتِ۔وَ نَـجْعَلُ دَارَھُمْ مَـمْلُوَّۃً مِّنَ الْاَرَامِلِ وَالثَّیِّبَاتِ۔وَنَتَوَفَّاہُمْ اَبَـاتِـرَ مَـخْذُ۔وْلِیْنَ وَ اِنْ تَـا۔بُوْا وَ اَصْلَحُوْا فَنَتُوْبُ عَلَیْـھِمْ بِـالرَّحْـمَۃِ۔وَنُغَیِّرُ مَا اَرَدْنَا مِنَ الْعُقُوْبَۃِ۔فَیَظْفَرُوْنَ بِـمَا یَبْتَغُوْنَ فَرِحِیْنَ۔فَنَصَحْتُ لَھُمْ اِتْـمَامًا لِّلْحُــجَّۃِ۔وَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ذِی الْمَغْفِرَۃِ۔فَـمَا سَـمِعُوْا کَلِمَاتِیْ۔وَ زَادُوْا فِیْ مُعَادَاتِیْ۔فَبَدَا لِیْ اَنَ اُشِیْعَ الْاِشْتِـھَارَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ۔لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ وَ یَرْجِعُوْنَ اِلٰی طُرُقِ الصَّوَابِ۔وَلَعَلَّھُمْ یَکُوْنُوْنَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ۔فَاَشَعْتُ الْاِ شْتِھَارَ۔وَاَنَـا فِیْ ھُشْیَارَ۔فَنَبَذُ وْہُ وَرَآءَظُھُوْرِھِمْ غَیْرَ مُبَالِیْنَ۔‘‘ ۱؎ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱صفحہ ۲۱۱ تا۲۱۳) ۱۸۸۶ء (الف) ’’ فَلَمَّا؎۲ لَمْ یَنْتَـھُوْا بِـھٰذَا الْاِشْتِـھَارِ۔وَلَمْ یَتْرُکُوْا طَرِیْقَ التَّبَارِ۔فَکَشَفَ اللّٰہُ ۱ (ترجمہ از مرتّب) جاننا چاہیے کہ احمد بیگ کی بیوی اور اس کے دیگر اقارب میرے رشتہ داروں میں سے تھے اور دینی امور کی راہوں میں میرا طریقہ اختیار نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ہر قسم کی بدکرداریوں اور گوناگوں بدعتوں کا بڑی دلیری سے ارتکاب کرتے تھے اور اس بات میں حد سے بڑھے ہوئے تھے پس مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہاماًبتایا گیا کہ اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ اُن پر عذاب نازل کرے گا اور مجھے میرے پروردگار نے کہا کہ اگر ان لوگوں نے توبہ نہ کی اور اپنی بے راہیوں سے باز نہ آئے تو ہم اُن پر آسمان سے عذاب نازل کریں گے اور ان کے گھروں کو بیواؤں سے بھردیں گے اور انہیں ابتر، ذلیل حالت میں وفات دیں گے۔اوراگر انہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی تو ہم رحمت کے ساتھ اُن کی طرف رجوع کریں گے اور سزا کے ارادہ کو تبدیل کردیں گے۔پس جو کچھ وہ چاہتے ہیں بخوشی خاطر دیکھیں گے۔اور میں نے اُن کو اتمام حجت کے لئے نصیحت کی اور کہا کہ خداوند غفور سے مغفرت چاہو مگر انہوں نے میری کوئی بات نہ سنی اور دشمنی میں اور بھی بڑھ گئے۔پھر میرے دل میں آیا کہ اس بارہ میں اشتہار شائع کروں تا یہ لوگ ڈریں اور راہ صواب کی طرف رجوع کریں اور خدا تعالیٰ سے بخشش چاہیں۔پس میں نے اشتہار شائع کردیا اور میں اس وقت ہوشیار پور میں تھا۔مگر انہوں نے اس اشتہار کو بےپرواہی سے پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) پھر جب وہ اس اشتہار سے نہ رُکے اور ہلاکت کی راہ کونہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس خاندان