تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 1089

تذکرہ — Page 106

۱۸۸۴ء ’’پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض؎۱اپنےپوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا۔اور جس گھڑی انہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اُسی گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُن کی طرف سے آنے والا ہے۔تب میں نے بلا توقف اُن کی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے۔دوسرے دن وہ خط آگیا اور جب میرا خط اُن کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی کیونکہ میرے اس راز کی خبر کسی کو نہ تھی اور ان کا اعتقاد اس قدر بڑھا کہ وہ محبت اور ارادت میں فنا ہوگئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی یادداشت کی کتاب میں وہ دونوں نشان م بالا درج کردیئے اور ہمیشہ اُن کو پاس رکھتے تھے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۵۷، ۲۵۸) تخمیناً ۱۸۸۴ء ’’ عالمِ کشف میں ان؎۲ کا دوسرا خط مجھ کو ملا جس میں بہت بے قراری ظاہر کی گئی تھی تو میں نے… اُن کے لئے دعا کی اور مجھ کو الہام ہواکہ کچھ عرصہ کے لئے یہ روک اُٹھادی جاوے گی اور اُن کو اس غم سے نجات دی جائے گی۔یہ الہام ان کو اسی خط میں لکھ کر بھیجا گیا تھا جو زیادہ تر تعجب کا موجب ہوا چنانچہ وہ الہام جلد تر پور اہوا اور تھوڑے دنوں کے بعد اُن کی منڈی بہت عمدہ طور پر بارونق ہوگئی اور روک اُٹھ گئی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۹۷) ۱۲؍ فروری۱۸۸۴ء (الف) ’’شاید پرسوں مکرر الہام ہوا تھا۔یَـا یَـحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ۔خُذْ ھَا وَلَا تَـخَفْ سَنُعِیْدُ ھَا سِیْرَتَـھَا الْاُوْلٰی ؎۳ یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہوچکا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ۵۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’علی محمد خان صاحب نواب جھجر نے لدھیانہ میں ایک غلّہ منڈی بنائی تھی کسی شخص کی شرارت کے سبب اُن کی منڈی بےرونق ہوگئی اور بہت نقصان ہونے لگا تب انہوں نے دعا کے لئے میری طرف رجوع کیا لیکن پیشتر اس کے کہ نواب صاحب کی طرف سے میرے پاس کوئی خط اس خاص امر کے لئے دعا کے بارہ میں آتا میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پائی کہ اس مضمون کا خط نواب صاحب کی طرف سے آرہے گا۔(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۹۶) ۲ نواب علی محمد خان صاحب آف جھجر۔(مرزا بشیر احمد) ۳ (ترجمہ از مرتّب) اے یحییٰ اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔اسے پکڑلے اور خوف نہ کر۔ہم اسے اس کی پہلی حالت کی طرف لَوٹا دیں گے۔