تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب

by Other Authors

Page 52 of 55

تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 52

۵۲ میں ادا کریں گے اور اگر ہند و صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی اقرار لکھ کر دیں؟ سوال : اقرار نامے کے لئے آپ نے کیا مضمون تجویز فرمایا ہے جواب : " ہم حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے۔اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک بڑی رقم تادان کی جو تین لاکھ روپے سے کم نہیں احمدی سلسہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے“ سوال: ہندووں اور مسلمانوں میں دیر پا صلح کس طرح ممکن ہے ؟ جواب: ہندو اور مسلمان میں ایک اختلاف سیاسی ہے کہ وہ حکومت کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ حصہ دار بننا چاہتے ہیں مسلمان اُن کا اس لئے ساتھ نہیں دیتا کہ اس طرح فائدہ صرف ہندوؤں کو ہوگا ان کی کوششوں میں سد راہ بن کر رنجش میں اضافہ ہوا۔مگر یا اصل اختلاف نہیں ہے۔اصل اختلاف مذہبی ہے۔اگر دونوں کا مذہب ایک ہو جائے تو کوئی اختلاف نہ رہے۔دیر پا صلح صرف اس طرح ممکن ہے کہ مسلمان دید اور دید کے رشیوں کو پیچھے دل سے خدا کی طرف سے قبول کرلیں اور ہندو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں۔اس کے لئے کچھ ہمدردی اور خیر خواہی ضروری ہے۔ہم یہ بھی