تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 51
اد آریہ ورت کی رُو سے پر مینٹر صرف آمر یہ ورت کا ہی راجہ ہے۔وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ خدا کبھی اُن بیچاروں کو بھی یاد کر سکتا ہے کہ جنہیں وہ ان کے خیال میں پیدا کر کے بھول گیا ہے۔کہ نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے ہر مذہب کی تکذیب ہتک اور بے عزتی کی گئی۔اور ان کی کتابوں ہیولوں کی توہین ہوئی۔سوال : مسلمانوں کے نزدیک رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام ہے ؟ جواب : مسلمان اپنے بنی کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتے مگر آنجناب کو تمام برگزیدہ انسانوں سے بزرگ تر جانتے ہیں۔ہر سچا مسلمان کسی سے صرف اسی صورت میں ضلع کر سکتا ہے جب اُن کے پاک نبئی کی نیست گفتگو ہو تو عزت و احترام سے پاک لفظوں میں انہیں یاد کیا جائے مسلمان دوسرے مذاہب کی توہین نہیں کرتے۔اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ دید انسان کا افتراء نہیں اس کی تشریحیں انسانی سوچ کا نتیجہ ہیں۔سوال : حضرت اقدس نے ہندوؤں کے سامنے صلح کیلئے کیا تجویز رکھی ؟ جواب حضور فرماتے ہیں۔ہنڈ اور آریہ صاحبان ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سیجانی مان لیں اور آئندہ توہین اور تکذیب چھوڑ دیں تو میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پہ تیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور دید اور اس کے رشیوں کی تعظیم اور محبت سے نام لیں گے اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہ ہوگی ہند و صاحبان کی خدمت