تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 50
ہر قوم اور ہر زمانہ میں جاری ہے۔جس کی مثالیں سری کرشن گور وبا با تانک اور خود حضرت مرزا غلام احمد سیح و مہدی موعود ہیں۔انبیاء اوتاره مصلح و بزرگ لوگ دنیا میں روحانی تربیت کے لئے آتے ہیں۔اور اس نعمت میں بھی کسی قوم ملک یا نہ مانے کی تخصیص نہیں۔سوال : مذاہب میں اختلافات کیوں پیدا ہوئے ؟ جواب: پہلے نہ مانے دنیا میں ایسے گزرے ہیں کہ ایک قوم دوسری م کے حالات سے اور ایک ملک دوسرے ملک کے وجود سے بے خبر تھے۔ایسے میں جب کسی قوم کو خدا کی طرف سے کتاب ملی یا کوئی خدا کا رسول اور نبی آیا تو اس قوم نے یہی خیال کیا کہ دنیا میں یہ نعمتیں صرف اُسی کا نصیب ہیں۔پھر جب قوموں کا آپس میں میل جول ممکن ہوا تو اپنی قوم کی برتری دلوں میں راسخ ہو چکی تھی۔اور کوئی قوم دوسری قوم کی برتری تسلیم کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال سے اپنا مقام قائم رکھنا چاہتی تھی۔اس طرح مذہب میں اختلاف بڑھتے گئے۔ان اختلاف میں صلح کرانے والوں پر بھی الزام رکھے گئے مثلا گو تم بدھ اور حضرت عیسی علیہ السلام۔دُنیا کے قریب آنے سے اپنے مذہب کے علاوہ ہر مذہب کی تکذیب شروع ہوگئی۔پیغمبری کی ژند واتنا والوں نے کو اپنے خاندان تک محدود بنایا۔عبرانیوں نے ثابت کیا کہ خدا کی تخت گاہ صرف ملک شام ہے۔اگرچہ یہ اصلاح بنی اسرائیل تک محدود رہی اور انہیں کے خاندان پر الہام اور خدا کی وحی کی مہر لگ گئی۔