تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 20
پیش گوئیاں کسی طرح نہیں ملتیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان اللہ لا يُخلف الميعاد وہ نہیں کہنا إِنَّ اللهَ لا تُخْلِفُ الوعيد حضرت یونس نے قطعی بغیر کسی شرط کے پیش گوئی کی تھی کہ مینوں پر پیش چالیس دن کے اندر عذاب نازل ہوگا مگر عذاب نازل نہ ہوا۔خدا تعالیٰ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔(ص) سوال پر جس حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم مثیل موسی ہیں اور آپ کے خلفاء مثیل انبیاء بنی اسرائیل میں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح موعود کا نام احادیث میں نبی کہہ کے پکارا گیا ہے ؟ جواب در آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم خاتم الانبیار تھے آپ کے معانید کوئی بنی نہیں تھا۔اس لئے اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ بیا تا کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں اس لئے حکمت الہی نے تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختم نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے اور یہ مرتبدان کو نہ دیا جائے تاختم نبوت پر یہ نشان ہو پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موجود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے میسج موعور کی نبوت خلقی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس ہی سے متنفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔(ص)