تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 11
پر حضرت عیسی کی تکذیب کی وجہ سے غضب الہی اسی دنیا ہیں نازل ہوا۔قرآن گواہ ہے کہ یہود کو مغضوب علیہم ٹھہرانے کے لئے حضرت علی کی زبان پر لعنت جاری ہوئی مخفی۔اب خدا تعالیٰ مسلمانوں کو یہ دعا سکھاتا ہے کہ ہم ایسے یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے اپنے عیسی کو سولی پر چڑھا دیا تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امت محمدیہ میں ایک عیسٹی پیدا ہونے والا ہے۔جس کی مخالفت میں بعض علماء بالکل یہود کے علماء کے مشابہ ہو جائیں گے۔ور نہ اس دعا کی کیا ضرورت تھی۔قرآن کریم کا محاورہ ہے کہ جب وہ کسی نیکی یا بدی سے منع کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب کوئی انسان بدی نہیں کرے گا بعض ضرور اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔اسی لئے سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی کہ ہم یہودی نہ بن جائیں۔خدا کے علم میں تھا کہ آئندہ الیسا واقعہ ہوگا۔اس امت میں عیسی مسیح کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوگا اس وقت بعض علمائے اسلام یہودی علماء کی طرح اُن کودکھے دیں گے ان کو بھی اسی طرح سزا ملے گی جیسے یہودیوں کو ملی۔(ص ۱۲۰) سوال یہودیوں کا حضرت عیسی پر کیا اعتراض تھا۔جواب در یہودی حضرت علی کے منکر اور سخت مخالف تھے۔ان کی بے عزتی کرنے کے لئے چاہتے تھے کہ انہیں کسی نہ کسی طرح صلیب پر موت کی سزادی جائے ، توریت میں لکھا ہے کہ جو صلیب پر فوت ہوگا۔اس کی نجات نہیں ہوگی۔وہ لعنتی ہو گا اور وہ مرکز خدا تعالیٰ کی طرف نہیں