تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب

by Other Authors

Page 40 of 55

تذکرۃ الشہادتین اور پیغام صلح بطرز سوال و جواب — Page 40

حضور نے فرمایا۔خواجہ صاحب جلدی کیجئے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہماری صحت کا کیا حال ہے بہر حال مشیت الہی میں جتنا حصہ لکھا جانا مقدر تھا وہ جب تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا حضور کی وفات نہیں ہوئی لیے حضور کا یہ آخری پیغام عوام تک پہنچانے کے لئے ۲۱ جون کو پنجاب یونیورسٹی ہال لاہور میں رائے پر تول چند صاحب ج چیف کورٹ کی زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں خواجہ کمال الدین صاحب نے پیغام صلح " کا مطبوعہ مضمون نہایت بلند آواز اور موثر ہجے میں پڑھا جسے حاضرین نے بہت سراہا۔اندرون ملک پیغام صلح کی مقبولیت اور پسندیدگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود ہندوؤں نے اس کی تائید کی اور اس پر عمدہ رائے کا اظہار کیا چنانچہ انبالہ ہند و پیریٹ مدراس نے لکھا ”وہ عظیم الشان طاقت اور اعلیٰ درجے کی ہمدردی جو قادیان کے بزرگ کے اس آخری پیغام صلح سے ظاہر ہوتی ہے یقیناً ایک خاص امتیاز کے ساتھ اسے ایک عظیم الشان انسان ثابت کرتی ہے۔۔۔ایسی ایل ایسے عظیم الشان انسان کی طرف سے یونہی ضائع نہیں جانی چاہیئے اور ہر ایک محب وطن سے تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۴۷۷