تذکرۃ المہدی — Page 93
تذكرة المهدى 93 اور ششدر رہ گیا اور دل میں کہا کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے رات دس بجے کے وقت میں اچھی طرح چھوڑ کر آیا ہوں خیر میں مرحوم کے پاس گیا دیکھا تو حالت غیر ہے اور جان کندن شروع ہے۔موت کے آثار نبض کا چھوٹ جانا۔غیر منظم ہوتا کا ٹھنڈا ہونا۔منہ کھلا رہنا وغیرہ سب موجود ہیں۔میں سیدھا حضرت اقدس علیہ السلام کے مکان پر گیا۔اب ساڑھے بارہ بجے ہیں ادھر مریض کا تنگ حال ادھر مکان کے دروازے بند اور سب سوتے ہیں میں ادھر کے حصہ مکان کی طرف گیا جس طرف حضرت اقدس علیہ السلام سویا کرتے یا لکھا کرتے ہیں میں نے ایک آواز بڑے زور سے گھبراہٹ میں دی تو پہلے جو بولے تو حضرت بولے کہ صاحبزادہ صاحب ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور سراج الحق ہے۔فرمایا : اس وقت کیسے آئے ہے۔سراج نے عرض کیا کہ یوسف علی کی حالت غیر اور قریب الموت ہے اور جان کندن شروع ہے۔تمام جسم سرد اور نبض غیر منظم کوئی صورت اچھی نہیں۔زندگی سے قطعی مایوسی ہے۔حضور کے اخلاق کا ایک نمونہ فرمایا شام تک تو ہم نے خبر منگائی اچھے تھے اندر آؤ اور اندر ایک خادمہ سے فرمایا کہ جلدی دروازہ کھول دو ثواب ہو گا اور ایک لالٹین ساتھ لے جاؤ خادمہ سے یہ کہنا کہ دروازہ کھول دو ثواب ہو گا ایسے پیارے لب ولہجہ سے فرمایا کہ میرے جیسے انسان کا کام نہیں کہ اس کا اندازہ کر سکے۔حالانکہ آپ آقا ہیں اور وہ خادمہ ہے اور ہر طرح سے تابعدار اور فرمانبردار ہے آپ چاہتے تو امرار و ساوالی شان سے اس کو خادمہ سمجھ کر یا دھمکا کر یا کڑی اور سخت آواز سے حکم کر سکتے تھے لیکن اس لب ولہجہ اور دھیمی اور مسکینی طریق سے فرمانا دروازہ کھول دو ثواب ہو گا" کیسا دل کو لبھانیوالا جملہ ہے کہ دباؤ نہیں سختی نہیں یہ اوصاف حمیدہ اور خصائل پسندیدہ اس امام موعود کے تھے علیہ الصلوۃ "