تذکرۃ المہدی — Page 287
تذكرة المهدى 287 سے آملے حضرت خلیفہ ثانی دام فیضہ اور حضرت بشیر احمد صاحب بھی آگئے اور ا ایک دو لڑکے اور بھی ان کے ساتھ تھے چھوٹی عمر تھی ننگے پاؤں اور ننگے سرمیاں بشیر احمد صاحب تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تبسم فرما کر فرمایا کہ میاں بشیر احمد جو تا ٹوپی کہاں ہے کہاں پھینک آئے میاں بشیر احمد صاحب نے کچھ جواب نہ دیا اور ہنس کر بچوں سے کھیلتے کھیلتے آگے بڑھ گئے اور کچھ فاصلہ پر روڑ گئے یہ بات چیت یہاں ہوئی جہاں اب میاں نظام الدین صاحب احمدی کی پختہ کپڑے وغیرہ کی دوکان ہے آپ نے فرمایا بچوں کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے جب جوتا نہ ہو تو روتے ہیں کہ جو تالا کے دو اور جب جو تا منگا دیا جاتا ہے تو پھر اس کی پرواہ نہیں کرتے اور نہیں پہنتے یوں ہی سوکھ سوکھ کر خراب ہو جاتا ہے یا تم ہو جاتا ہے کچھ بچوں کی جبلت ہی ایسی ہوتی ہے کہ کچھ کسی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی عجیب بے فکری کی عمر ہوتی ہے اور اکثر اپنے آپ کو پا برہنہ رکھنا ہی پسند کرتے ہیں ابھی دو چار دن کا ذکر ہے کہ جو تا کا تقاضا تھا جب منگا کر دیا تو اس کی پروا نہیں میں نے عرض کیا کہ کسی نے کہا ہے کہ در طفلی پستی و در جوانی مستی و در پیری ستی پس خدارا کے پرستی یہ سن کر ہنسے تو پھر میں نے عرض کیا کہ حافظ حامد علی کو بھیج دیا جائے وہ جو ماٹو پی لے آئیں گے فرمایا جانے دو خدا جانے کہاں ہونگے۔خیر آپ چل پڑے دو ہی قدم چلے ہوں گے اسی ذکر میں فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پا برہنہ شخص خدا کو دیکھ لیتا ہے شاید اس میں بھید یہ ہے کہ بچوں کی معصومیت کی مشابہت سے یہ عمل خدا تعالیٰ کو پسند ہو پھر فرمایا کہ ایک بزرگ تھے انہوں نے جوتا پہننا چھوڑ دیا تھا یہ خیال کر کے کہ جب امیروں کے فرش پر لوگ جو تا نہیں پہنتے تو امیر الامراء خدا تعالیٰ کے فرش زمین پر کیوں جو تا پنوں وہ بڑے کامل گزرے ہیں۔فرمایا فقراء صوفیاء کے بھی عجیب حال گزرے ہیں وہ خدا میں محو ہوتے تھے اور خدا میں ہو کر رہ سب کام کرتے تھے ایک بزرگ کا ذکر ہے کہ ان کے مرید نے توجہ الی اللہ کا