تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 288 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 288

تذكرة الميدنى 288 سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ فلاں مقام پر ایک بزرگ ہیں ان کے پاس جاؤ یہ بات وہاں حل ہوگی۔اس نے عرض کیا کہ جناب راستہ میں ایک دریا ہے اس سے کس طرح پار ہوں گا انہوں نے کہا کہ دریا سے یہ کہنا کہ میرے مرشد نے کبھی کھانا نہیں کھایا یہ سچ ہے تو اے دریا مجھے راستہ دے دے وہ شخص چل پڑا لیکن خیال کیا کہ ہر روز میرے سامنے یہ کھاتے پیتے ہیں میں کیونکر دریا سے جھوٹ بات کہوں اسی خیال میں کئی منزلیں طے کر کے دریا کے اوپر پہنچا اور دریا کو یہ پیغام اپنے مرشد کا سنادیا دریا کا پانی کم ہو گیا اور وہ اس میں سے آسانی سے پار ہو گیا جب ان بزرگ کے پاس پہنچا تو ان سے یہ سب کیفیت توجہ الی اللہ کے سوال اور دریا اور مرشد کے جواب کی سنائی تو ان بزرگ نے چند روز کے بعد جواب دیا کہ اپنے مرشد سے ہمارا سلام کہو اور پھر یہ کہو کہ ہم نے یہ سوال حل کر دیا اس نے کہا کہ دریا سے میں کس طرح پار ہو نگا میرے مرشد نے تو یہ کہا تھا ان بزرگ نے کہا کہ میری طرف سے دریا کو کہدیتا کہ جس کے پاس سے میں آیا ہوں وہ کہتے ہیں کہ میں نے تمام عمر میں اپنی بیوی سے صحبت نہیں کی۔یہ سن کردہ شخص اور بھی حیران ہو گیا اور دل ہی دل میں خیال کرتا ہوا چلا کہ ان کے ایک چھوڑ دو بیویاں ہیں اور لڑکے لڑکیاں ہیں پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی بیوی سے ہم بستر نہیں ہوئے۔آخر دریا کے پاس آکر وہی انکا ارشاد دریا سے کہدیا دریا یہ سن کر پایاب ہو گیا اور یہ شخص آسانی سے پار ہو گیا اور سفر طے کر کے مرشد کے پاس آیا اور سب حال بیان کیا اور کہا کہ وہ سوال وصول الی اللہ اور توجہ باللہ کا تو الگ رہا مجھے آپ کی اور ان کی ان باتوں پر بڑا تعجب ہے ان باتوں میں کیا بھید ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم جو کام کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور ابتغاء لو مجھے کرتے ہیں ہمارا اپنا ارادہ کوئی نہیں ہو تا پس وہ شخص اپنے سوال کا جواب پاکر سمجھ گیا۔میں نے اسی روز سے حضرت اقدس علیہ السلام کی یہ بات سن کر جوتا پہننا