تذکرۃ المہدی — Page 263
تذكرة المهدى 263 ہاتھ سے اپنی ذلت کے سامان بہم پہنچائے میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ بھی اپنی کتاب میں اس نشان کو جو مولوی بشیر کی ذلت اور آپ کی عزت کا باعث ہوا لکھ دیں۔ہیں۔فرمایا : اس سے زیادہ ہم کیا لکھیں گے جو وہ آپ مولوی صاحب لکھ رہے اب اللہ تعالی جل جلالہ کی تیسری قدرت کا ظہور دیکھنا چاہئے کچھ سال نہیں گذرے تھے جو مولوی محمد بشیر مفتی بھوپال رئیس بھوپال کی طرف سے تھا اس عہدے سے برطرف ہو کر ذلیل و خوار ہوا اور بھوپال سے نکالا گیا عتاب سرکار میں جو دراصل سخت عتاب الہی تھا گرفتار ہوا سو روپیہ ماہوار کی تنخواہ تھی وہ ضبط ہوئی اور پنشن بھی ساتھ ہی گئی۔اس کا کوئی استحقاق نہ رہا۔مولوی بشیر با بدست دگری دست بدست دگرے فرار ہو کر دہلی آئے دہلی میں کچھ غیر مقلدوں نے چندہ کے طور پر ۴۰-۵۰ روپیہ دیا۔اب اللہ عزوجل کی چوتھی قدرت کی جلوہ نمائی کے قربان تھوڑی مدت دہلی میں رہے اور طاعون سے مرگئے۔ان کی بیوی نے ایک شخص سے نکاح کر لیا مگر وہ دکھ درد رنج و غم میں رہی کسی نوع کا آرام و چین نہ دیکھا پھر اس کے بعد خود نکلی یا نکالی گئی اور کسی نے اس پر رحم و ترس نہ کھایا۔عزیزی که از در گش سرتافت بهر جا کہ شد هیچ عزت نیافت اب اللہ تعالٰی منتقم حقیقی کے قہر و غضب کا پانچواں نشان دیکھو کہ مولوی بشیر کے ایک لڑکا تھا وہ دیوانہ پاگل ہوا وہ بھی خدائی خوار کس مپرسی کی حالت میں کہاں سے کہاں نکل کر بے نام و نشان مرگيا صَدَقَ اللهُ تَعَالَى وَلَا يُخَافُ عقبها الله تعالیٰ بدبخت شقی کی ذلت و خواری ہی نہیں کرتا بلکہ اس کی اولاد اور بیوی وغیرہ کی بھی پرواہ نہیں کرتا اور ان کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے کیوں اس لئے كه نَكَا لَا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ یہ پانچ نشان الله اول