تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 244 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 244

تذكرة المهدى 244 آنکھ اٹھا کر دیکھ لے۔حضرت اقدس نے فرمایا اے آنکہ سوئے من بددیدی بعد تمر از باغبان بترس که من شاخ مشمرم خود گر گیا حقیر ہو گیا۔ذلیل ہو گیا۔آسمان کا تھو کا منہ پر آیا۔مگر اللہ تعالی پر ایمان لانے والا شخص صدق دل سے یقین رکھنے والا ہزار جان سے بول اٹھتا ہے کہ یہ بارور شجر عظیم الشان درخت ہو گا پھلے گا پھولے گا لاکھوں اس کے سایہ میں آرام پاویں گے۔جو اس کے کاٹنے کی فکر میں ہو گا وہ خود کاٹا جاوے گا دیکھو آنحضرت ﷺ کی کمی حالت کو آپ کے زمانہ میں آپ کو کس میری بے کسی کی حالت میں دیکھنے والا کب کہہ سکتا تھا اور کب اس کو یقین آسکتا تھا کہ یہ عظیم الشان انسان اولو العزم رسول مانا جاوے گا مگر واہ رے ابو بکر صدیق تجھ پر ہزاروں صلوۃ والسلام اور واہ رے بلال حبشی تجھ پر بے شمار رحمت جو معراج کی رات کو آنحضرت اللہ پر ایمان لا کر جنت میں آپ سے پہلے پھرتا پایا انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جن کو اللہ تعالی نے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ فرمایا کیا دیکھا تھا۔یہی دیکھا تھا کہ ماریں پڑ رہی ہیں چاروں طرف سے دشمنوں کے نرغہ میں ہے نہ کھانے کا آرام نہ لباس کا مزہ نہ مکان میں رہنا نصیب نہ جنگل میں ٹھکانا۔روپیہ نہیں دولت نہیں لشکر نہیں سپاہ نہیں کہ جس پر کچھ امید وابستہ ہو ایسی حالت میں صادق کو پہچان لینا اور ہر آفت میں ہر ایک رنج و راحت میں ساتھ دینا کیونکر تھا بس اس طرح تھا کہ خدا پر ایمان تھا پہلے انبیاء کی نظیریں موجود تھیں آپ کی سلامت روی پیش نظر تھی کسی نے خوب کہا ہے۔مرد حقانی کی پیشانی کا نور کب چھپا رہتا ہے پیش ذی شعور سيمَا هُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ تو خود اللہ تعالی ہی فرماتا ہے مگر نذیر حسین خشک ملا تھا۔نابینا تھا بد قسمت نہ سمجھا نہ سوچا اور اپنے شاگردوں معتقدوں کے دباؤ میں آگیا۔آپ بھی ڈوبا ان کو بھی ڈبویا۔مولوی صاحب کو تو ساری عمر میں لا نسلم نہیں نہیں یاد تھی اور سب کچھ بھول گئے۔