تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 245 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 245

تذكرة المهدي 245 " جو لکھا پڑھا تھا نذیر نے سودہ ایک پل میں بھلا دیا۔مجھے زیادہ تر ان تمام خبروں کے ملنے کا یہ ذریعہ تھا کہ میرے دو مرید اللہ تعالٰی ان پر رحمت کرے فوت ہو گئے ہیں اس وقت ساتھ رہے دن کو رات کو ان مولویوں کی مجلسوں میں شامل رہتے اور ان کے مشوروں میں شریک ہوتے۔اور رات کو خفیہ طور سے یہ سب حال مجھ سے کہہ جاتے تھے جب یہ حضرت اقدس علیہ السلام کی بات کا جواب نہ دے سکے تو انہوں نے یہ چالا کی اختیار کی کہ سب نے مل کر اشتہار دیدیا کہ کل مولوی نذیر حسین صاحب کی مرزا صاحب سے بحث ہوگی اس بحث کی حضرت اقدس کو اطلاع نہ دی لیکن عین وقت پر کہلا بھیجا کہ آؤ مباحثہ کے لئے مولوی نذیر حسین صاحب موجود ہیں حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلے مجھ سے مشورہ لینا تھا۔تاریخ مجھ سے پوچھ کر مقرر سرکاری انتظام کرنا تھا ایک طرفہ تاریخ مباحث کرنا یہ تو خلاف عقل ہے تم سب ایک طرف ہو میں اکیلا ہوں مسافر ہوں۔اتنے میں حکیم عبد المجید خان بگھی میں بیٹھ کر آگئے اور حضرت اقدس سے عرض کیا کہ آپ مباحثہ کے لئے چلئے۔مولوی نذیر حسین صاحب بھی چلتے ہیں اس مولوی کو بھی خبر نہیں خواہ مخواہ لوگوں نے اپنی طرف سے ایک جلسہ قرار دے لیا تھا وہ بھی فساد کی نیت سے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے وہی جواب ان کو دیا جو اوروں کو بھیجے تھے اور اسی مضمون کا ایک اشتہار بھی دیا حکیم عبدالمجید خان اس جواب کے سننے سے ناراض ہوئے اور کہا کہ آپ کو کیا جو میں آپ کے ساتھ ہوں میں نے کہا کہ حکیم صاحب تم ایک حکیم ہو کوئی بادشاہ نہیں صوبہ دار نہیں اگر فساد ہو جائے تو تمہارا ہم کیا کرلیں گے تم علیحدہ ہو جاؤ گے یا تم بھی بیچ میں پٹوگے اور رات کو وہی دونوں شخص مجھے اس مباحثہ کی اور طوفان بے تمیزی اور مجادلہ کی خبر دے چکے تھے کہ ہر گز مت جانا۔لوگوں کے تیور بدلے ہوئے ہیں اور وہ فساد پر آمادہ ہیں بحث ہونے کا بہانہ ہے وہ پھر چھریاں لے کر مارنے کے لئے آمادہ ہیں