تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 222 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 222

تذكرة المهدي 222 فَتَرْجِعُ مِنْ حُبِّ الشَّرِيْرِ كَخَاسِرٍ آزموده را آزمودن جهل است انکو بھی دیکھ بھال لو۔منشی صاحب : ایک بات خوب یاد آئی۔آؤ پہلے امام جامع مسجد کے پاس چلیں انہوں نے مجھ سے چند روز ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی کتاب کی ضرورت ہو تو میں دے دوں گا مجھ سے لے لیتا اور کسی کو خبر نہ کرنا۔نعمانی اچھا صاحب چلو ان کا وعدہ بھی دیکھ لو۔ہم دونوں امام صاحب کے پاس گئے چونکہ مجھ سے امام صاحب واقف تھے اور میرے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمن صاحب جو دہلی میں آتے تو باپ بیٹے بڑے ادب سے ارادتمندانہ آیا کرتے تھے۔اس سبب سے میرا بھی ان سے تعارف تھا لیکن دل میں کھنکا تھا کہ ان کی ارادت اور واقفیت کوئی چیز نہیں اس میں لثیت نہیں تھی۔حضرت اقدس علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اور بارہا فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہئے کہ اپنے دل سے فتوئی پوچھے کیونکہ دل بھی خدا نے ایک عجیب چیز بنایا ہے اور اس میں اپنی تجلی کی شعاعیں رکھی ہیں۔خیر منشی صاحب کے فرمانے سے ہم امام صاحب کے گھر پر گئے آواز دی تو باہر آئے اور ہماری شکل دیکھ کر سہم گئے کانپ گئے اور چہرہ پھیکا ہو گیا اور منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بولے۔فرمائیے اس وقت رات کو کیا کام ہے؟ نشی صاحب بولے : کتابوں کی ضرورت ہے آپ نے وعدہ فرمایا تھا الْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وَفَا اب دے دیجئے دو تین روز میں انشاء اللہ آپ کی کتابیں آپ کے پاس آجا ئیں گی۔امام صاحب : بھئی اب کیا کروں اب تو کل علماء اور عوام کا یہ مشورہ اور پختہ عمد ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کو کتابیں نہ دیجاویں۔اور ان کا کوئی اشتہار نہ چھایا جاوے مجھے معاف فرمائیے میں ان سے الگ نہیں ہو سکتا اور کتابیں بھی نہیں دے