تذکرۃ المہدی — Page 180
تذكرة المهدي 180 شریف سے بیان نہیں کی وہ شخص اتنی بات سن کر امام کے پیچھے نماز میں الحمد شریف پڑہنے لگا۔اور کوئی حجت نہیں کی۔ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک و علی محمد جو شخص نماز میں الحمد امام کے پیچھے نہ پڑھے اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ نماز ہوتی ہے یا نہیں یہ سوال کرنا اور دریافت کرنا چاہئے کہ نماز میں الحمد امام کے پیچھے پڑھنا چاہئے کہ نہیں ہم کہتے ہیں کہ ضرور پڑھنی چاہئے ہونا نہ ہونا تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے خفی نہیں پڑھتے اور ہزاروں اولیاء حنفی طریق کے پابند تھے۔اور خلف امام الحمد نہیں پڑھتے تھے جب ان کی نماز نہ ہوتی تو وہ اولیاء اللہ کیسے ہو گئے چونکہ ہمیں امام اعظم سے ایک طرح کی مناسبت ہے اور ہمیں امام اعظم کا بہت ادب ہے ہم یہ فتویٰ نہیں دے سکتے کہ نماز نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں تمام ! حدیثیں مدون و مرتب نہیں ہوئی تھیں اور یہ بھید جو کہ اب کھلا ہے نہیں کھلا تھا۔اس واسطہ وہ معذور تھے اور اب یہ مسئلہ حل ہو گیا اب اگر نہیں پڑھے گا تو بے شک اس کی نماز درجہ قبولیت کو نہیں پہنچے گی ہم میں بار بار اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ الحمد نماز میں خلف امام پڑھی چاہئے۔ایک روز میں نے دریافت کیا کہ حضرت صلی اللہ علیک و علی محمد الحمد کس موقعہ پر پڑھنی چاہئے فرمایا جہاں موقعہ پڑھنے کا لگ جاوے میں نے عرض کیا کہ امام کے سکوت میں فرمایا۔جہاں موقعہ ہو پڑھنا ضرور چاہیئے۔رکوع سے رکعت ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر جماعت ہو رہی ہے اور مقتدی کو رکوع میں ملنے کا موقعہ ملا اب اس نے الحمد نہیں پڑھی وہ رکعت اس کی ہو جاوے گی۔مولوی عبد الکریم صاحب ہوئے کہ وہ رکعت اس کی نہیں ہوگی حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ رکعت اس کی ہو گئی۔نہیں کیسے ہوگی۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ اگر اس کو موقعہ ملتا کہ وہ الحمد پڑھ لیتا تو کیا وہ الحمد نہ پڑھتا مولوی صاحب نے عرض کیا کہ پڑھتا کیوں نہیں اس