تذکرۃ المہدی — Page 181
تذكرة المهدي 181 کا اعتقاد تو یہی ہے کہ الحمد پڑھ لوں فرمایا نیت کے ساتھ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنيات دارو مدار ہے اس کو اتنی مہلت نہیں ملی دل میں تو اس کا اعتقاد ہے وہ رکعت اس کی ضرور ہو گئی۔ایک دیوانہ کا قصہ ایک روز دارلامان میں پلیٹ فارم پر جہاں اب مدرسہ اور مہمان خانہ ہے میں تہجد کی نماز پڑھتا تھا اور ایک شخص میراں بخش نام مجنون آگیا اور وہ بھی نیت باندھ کر میرے ساتھ کھڑا ہو گیا اور زور زور سے الحمد پڑھنے لگا پھر جو اس کو جنون اٹھا تو بجائے الحمد کے پنوں سی گانے لگا میں نے دو رکعت بمشکل تمام پوری کی اور بعد سلام میں نے کہا دور ہو کمبخت میری نماز میں تو نے خلل ڈالا۔وہ بولا کہ میں نہیں جاتا تو اکیلا نماز پڑھتا تھا میں نے نماز جماعت کی پڑھوائی اور میں تو نماز ہی پڑھتا تھا۔میں نے کہا نماز تو خیر پڑھتا تھا لیکن یہ بنوں سی کیوں گانے لگا اس نے میری بات کا جواب نہ دیا جنون میں اور کچھ کو اس کرنے لگا میں نے کہا جا یہاں سے چلا جا۔اس نے کہا میں نہیں جاتا میں نے کہا یا تو یہاں سے چلا جا نہیں تو میں تجھے ماروں گا اور کچے کو کھا جاؤں گا وہ تب بھی نہ گیا پھر میں نے اس کو دھکہ دیگر وہاں سے دفع کیا حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت مسجد مبارک کی چھت پر نماز تہجد کی پڑھ کر ٹلتے تھے اور یہ ہماری باتیں سب سن رہے تھے اور خدا جانے اس روز کس طرح ہماری باتیں سن لیں ورنہ حضرت اقدس کی یہ عادت تھی کہ کوئی کچھ باتیں کرتا ہو آپ دھیان نہیں کرتے بلکہ آپ سے مخاطب ہو کر کوئی بات کرتا تب بھی آپ بات تو سن لیتے اور جواب بھی دیدیتے مگر سنتے بھی نہ تھے اور آپ متوجہ بھی ہوتے اور توجہ بھی نہ کرتے اور کسی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے حالانکہ دیکھتے بھی உ الغرض ہماری تمرار دونوں کی سن رہے تھے جب صبح ہوئی تو میں مسجد مبارک