تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 165 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 165

تذكرة المهدي 165 دروازه بند پایا اور دروزہ پر اور سینکڑوں آدمی تھے بمشکل تمام درازه مولوی نظام الدین صاحب مرحوم نے کھلوایا میرے ساتھ سب آدمی اندر گھس گئے اور مولوی محمد حسن اور مولوی محمد حسین کا چہرہ زرد ہو گیا۔مجھے مولوی محمد حسن نے کہا کہ تم کیوں آگئے میں نے کہا ہم کیسے نہ آویں مباحثہ تو گویا ہمارے ساتھ ہے اور کاتب مباحثہ میں ہوں حضرت اقدس علیہ السلام نے مضمون سنانے سے پہلے فرمایا که مولوی صاحب اب یہ مباحثہ طول پکڑ گیا ہے اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے اصل مطلب وفات وحیات مسیح علیہ السلام میں بحث ہونی مناسب ہے مگر مولوی صاحب کب ماننے والے تھے ان کے ہاتھ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات میں کیا دھرا تھا جب حضرت اقدس علیہ السلام نے پرچہ سنانا شروع کیا تو مولوی صاحب کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اور ایسی گھبراہٹ ہوئی اور اس قدر ہوش و حواس باختہ ہوئے کہ نوٹ کرنے کے لئے جب قلم اٹھایا تو زمین پر قلم مارنے لگے دوات جوں کی توں رکھی رہ گئی اور قلم چند بار زمین پر مارنے سے ٹوٹ گیا اور جب یہ حدیث آئی کہ بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو حدیث میری معارض قرآن ہو وہ چھوڑ دی جائے اور قرآن کو لے لیا جائے اس پر مولوی محمد حسین کو نہایت غصہ آیا اور کہا یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔اور جو یہ حدیث بخاری میں ہو تو میری دونوں بیویوں پر طلاق ہے اس طلاق کے لفظ سے تمام لوگ ہنس پڑے اور مولوی صاحب کو مارے شرم کے کچھ نہ بن پڑا اور بعد میں کئی روز تک لوگوں سے مولوی صاحب کہتے رہے کہ نہیں نہیں میری دونوں بیویوں پر طلاق نہیں ہوا اور نہ میں نے طلاق کا نام لیا ہے اب جو دس ہیں سو دو سو کو خبر تھی تو مولوی صاحب نے ہزاروں کو خبر دیدی مولوی صاحب پر غضب اور مغلوب الغضب تو تھے ہی غصہ میں خدا جانے کیا کیا زبان سے نکلا۔عباس علی کا ارتداد مباحثہ تو ختم ہو گیا اور مولوی صاحب کا غصہ اور بھی بھڑک گیا عباس علی مباحثہ کے ایام میں مولوی