تذکرۃ المہدی — Page 137
تذكرة المهدى 137 راول کسی صورت سے مرزا بڑا چالاک اور علم والا ہے وہ مولویوں کے گنڈوں پر نہیں ہے۔مولوی۔ایک زبان ہو کر مولوی صاحب مرزا کی خبر لینے کو گئے ہیں دیکھنا تو سہی مرزا کی کیسی گت بنتی ہے مولوی مرزا سے علم میں کم نہیں ہے طامع نہیں ہے صاحب روزگار ہے خدا اور رسول کو پہچانتا ہے فاضل ہے مرزا کو نیچا دکھا کے آئے گا اور سوائے ان کے جو کچھ کسی کے منہ میں آتا تھا وہ کہتا تھا اور ادھر خدا کی قدرت کا تماشا اور ارادہ الہی میں کیا تھا جب مولوی غلام نبی صاحب اندر مکان کے گئے تو چپ چاپ بیٹھے تھے۔مولوی صاحب حضرت! آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ کہاں سے لیا۔حضرت اقدس: قرآن شریف سے حدیث شریف سے اور علماء ربانیین کے اقوال سے۔مولوی صاحب کوئی آیت قرآن مجید میں وفات مسیح کے بارہ میں ہو تو بتلائیے۔حضرت اقدس لو یہ قرآن شریف رکھا ہے آپ نے قرآن شریف دو جگہ سے کھول کر اور نشان کاغذ رکھ کر مولوی صاحب کے ہاتھ میں دیا ایک مقام تو سورہ آل عمران یعنی تیسرے پارہ کا تیرا پاؤ اور دوسرا مقام سورہ مائدہ کا آخری کوع جو ساتویں پارہ میں ہے اول میں آیت یا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ اور دوسرے میں فَلَمَّا تُوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمْ تھا۔مولوی صاحب دونوں مقاموں کی دونوں آیتیں دیکھ کر حیران اور ششدر رہ گئے اور کہنے لگے يُوَ فی اُجُورَهُم بھی تو قرآن شریف میں ہے اس کے کیا معنی ہونگے۔حضرت اقدس : ان آیتوں کے جو ہم نے پیش کی ہیں اور معنی ہیں اور جو آیتیں تم نے پیش کی ہیں ان کے اور معنی ہیں بات یہ ہے کہ یہ اور باب ہے اور وہ اور