تذکرۃ المہدی — Page 112
تذكرة المهدى 112 چکر لگاتا رہا اور ڈرسے میرے سے ملاقات نہیں کی۔یہ بات رفتہ رفتہ نواب صاحب مرحوم تک پہنچی نواب صاحب بھی چونکہ حضرت اقدس سے نہایت اعتقاد رکھتے تھے اس کو ملامت کی اور رسم پیران کے مطابق حال اس کو میرے قدموں میں لاڈالا۔اور توبہ کرائی کہ آئندہ پھر ایسا کلمہ خبیث منہ سے نہ نکالے۔؟ یہ واقعہ میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت عالی میں عرض کیا تو فرمایا مارتا تو نہیں چاہئے تھا لیکن غیرت اسلامی اور حسن ارادت کا یہی تقاضا ہوتا چاہیے کہ ایسے بے ادب گستاخ لوگوں سے ترک ملاقات ہو اور اب جو معاف کر دیا اور اس نے توبہ کرلی تو خوب ہوا لیکن ایسے لوگوں کی تو بہ کا کیا اعتبار ہے در حقیقت وہ خراب اندردن ظاہر میں تو کچھ نہ بولتا ہاں اندر ہی اندر وہ سلگتا اور آتش حسد سے جلتا تھا۔ایک مدت کے بعد جو سال بھر سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ وہ آتشک کے مرض میں گرفتار ہوا اور اس کے آلہ تناسل میں لمبے لبے کپڑے کالے منہ کے جو لمبائی میں آدھ انچ کے ہوں گے پڑے اور کسی نے اس کو نہ پوچھا اور ایسی کس میری کی حالت میں لعنتی موت سے مرا کہ اس کی موت کا وقت یاد آکر دل کانپ اٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کے لئے سخت غیور ہے جو اس نے کہا اسی مرض میں اس کو بلکہ اس سے زیادہ مبتلا کیا اللهم احفظنا ! حضرت خلیفتہ المسیح رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص کسی پر ناحق عیب لگاتا ہے وہ ضرور اس میں گرفتار ہو جاتا ہے بہر حال اللہ تعالیٰ جل شانہ نے چاہا کہ یہ شخص ہمارے محبوب موعود مقبول ہمارے مسیح و مہدی ہادی کی نسبت ایسا گندہ لفظ بولے اور پھر سلامت رہے اور اسی گندگی میں گرفتار نہ ہو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مَنْ عَاذَا لِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُه لِلْحَرْبِ۔قرآن شریف میں بھی اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ وَ ذَرْنِي وَ الْمُكَذِّبِينَ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آنحضرت ا تک اور آنحضرت