تذکرۃ المہدی — Page 113
تذكرة المهدي 113 سے لے کر اب تک لاکھوں کروڑوں نظیریں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں کہ جس نے مقبولان الہی اور محبوبان ربانی سے نفرت کی یا ایزا دی اور مخالفت پر آمادگی ظاہر کی تو خدا تعالی خود اس کے مقابل آکھڑا ہوا اور اس کو دم کی دم میں نیست ونابود کر ڈالا۔ایک بڑے جلسہ پر جس میں تین سو تیرہ تین سو تیرہ صحابہ کا جلسہ احباب علاوہ مخالفوں کے یا ان کے جو حسن ظن رکھتے تھے دارالامان قادیان میں حاضر ہوئے تھے ایک اونچا تخت چوبی حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے بچھایا گیا اور اس پر ایک قالین کا فرش کرایا گیا اور آپ اس پر جلوہ افروز ہوئے اور چاروں طرف احباب فرش پر بیٹھے چاند کے گرو تارے سامنے حضرت خلیفتہ المسیح یعنی شمال کی طرف اور مغرب کی طرف حضرت مولانا مولوی برہان الدین علمی رضی اللہ تعالی عنہ اور تخت کے قریب گوشه مغرب و جنوب میں یہ عاجز اور اس عاجز کے داہنی طرف حضرت مخدوم مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی تشریف رکھتے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے توضیح مرام کتاب کا وہ مقام نکالا کہ جس پر مولویوں نے ملائکہ کی بحث پر نادانی سے اعتراض کیا تھا اور تقریر شرح وبسط سے فرمائی حضرت فاضل امروہی پر ایک رقت اس وقت ایسی طاری ہوئی کہ جس سے حاضرین کے دل بھی پگھل گئے اور سب پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہوئی اس تقریر پر تاثیر سے بعض کے دلوں میں جو شک وشبہ تھے وہ نکل گئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ دیکھو میرا دعوئی مهدی و مسیح موعود ہونے کا میری طرف سے نہیں ہے جیسا کہ تمام انبیاء اللہ علیهم السلام کا دعویٰ نبوت ورسالت اپنی طرف سے نہیں تھا ان کو خدا نے فرمایا تھا اور مجھ کو بھی اپنی ای سنت کے موافق علیٰ منہاج النبوت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے حسب الارشاد خداوندی دعوی کیا ہے میری اس میں کوئی خواہش یا بناوٹ نہیں ہے