تذکرۃ المہدی — Page 107
تذكرة المهدى 107 مقام ہوئے اور حضرت مرزا صاحب کس گروہ میں ہوئے۔اب یہاں سوائے خاموشی کے کیا بنتا تھا انالحق کہنے والے صادق راست باز دلی مانے گئے اور انا المسیح کہنے والے معاذ اللہ کافر ٹھہرائے جاویں۔دیکھو تم اپنی عاقبت خراب مت کرو خدا کے لئے سوچو اور سمجھو اور مانو تمہارے سامنے ہزاروں نظیریں انبیاء اللہ اور اولیاء اللہ کی موجود ہیں ان کے ساتھ ہوا کیا یہ کوئی نئی بات نہیں۔جب میں نواب صاحب مرحوم کی کوٹھی سے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں جاتا تھا تو راستہ بمشکل تمام ختم ہو تا تھا۔راستہ میں ہزاروں گالیاں ہم کو اور حضرت اقدس علیہ السلام کو دیتے تھے مجھ سے ضبط نہ ہو تا تھا اور یہ حال حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا آپ ہنس کر فرماتے صاحبزادگی کو اس وقت رہنے دو۔صبر کرو الصَّبْرُ مِفْتَاحُ الفَرَج ہماری تمہاری - اس وقت کی زندگی کا نمونہ ہے خدا کا شکر بھیجو کہ اس وقت انگریزوں کی سلطنت میں سوائے گالیوں کے کوئی اور طرح پیش نہیں آتا۔اگر اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کا سایہ عاطفت نہ ہو تا تو یہ لوگ خدا جانے ہمارے تمہارے ساتھ کیا کیا سلوک کرتے صبر کرو - صبر کرو اللہ تعالیٰ کبھی تو ان کی آنکھیں کھولے گا۔مولوی سعد اللہ نو مسلم کی تو ہماری مخالفت میں یہ حالت تھی کہ ہر روز کبھی دوسرے روز ایک اشتہار مخالفت میں گالیوں سے بھرا ہوا مطبوعہ شائع کرتا تھا کبھی چوری کا الزام کبھی بغاوت کا الزام ہو تا بعض نیک ظن اور مبالکیین تو خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تھے لیکن گاہ بگاہ مخالف بھی آجاتے اور بات بات میں جھگڑا کرتے تھے اور بعض امتحان اور آزمائش کے لئے اور بعض صرف دیکھنے کے ئے آتے تھے ایک روز مخالفوں نے پانچ ولایتی کابلی آدمیوں کو بہکا کے بھیجا اور کہا کہ یہاں اس مکان میں ایک شخص ہے وہ تمام نبیوں کو گالیاں دیتا ہے اور قرآن اور رسول کو نہیں مانتا۔وہ ولایتی افغان سخت غضب میں بھرے ہوئے یک