تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 108 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 108

تذكرة المهدي 108 دم مکان میں چلے آئے اس وقت ایک شخص احمدی حضرت اقدس سے قرآن شریف کھولے ہوئے معنی پوچھتا تھا کہ اِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ حي الموتى الا یہ حضرت اقدس علیہ السلام اس کی تفسیر کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مردوں کے زندہ ہونے کا تو سوال نہیں کرتے تھے کیونکہ مرنا زندہ ہونا یہ دونوں کیفیتیں ہر وقت انسان مشاہدہ کرتا ہے۔اور حضرت ابراہیم بھی ہمیشہ دیکھتے تھے کہ بارش سے زمین ہر سال اور زمینی اشیاء زندہ ہو جاتی ہیں انسان میں سے انسان حیوان میں سے حیوان پیدا ہوتا ہے انڈے میں سے بچہ نکل آتا ہے نطفہ سے کیا کیا شکل بنجاتی ہے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام زندگی کی وہ کیفیت دریافت کرتے تھے کہ جس سے حیات ہوتی ہے اور زندگی وابستہ ہے اور کیونکر زندہ کر دیتا ہے پھر فرمایا کہ اس کی مثال یوں سمجھو کہ ایک بازی گر ہتھ پھیر کر کے روپیہ منگا دیتا ہے دیکھنے والا یہ تو دیکھتا ہے کہ اس نے روپیہ منگا دیا مگر جو کہتا ہے کہ مجھے بتلاؤ کیونکر منگایا وہ سائل اس خاص کیفیت کو دیکھنا چاہتا ہے اور دریافت کرنا چاہتا ہے بس اتنی ہی گفتگو ہونے پائی تھی جو وہ کابلی آگئے اور سرخ غصہ سے چہرے ہو رہے تھے وہ بیٹھ گئے اور قرآن شریف کی تفسیر سننے لگے۔بہت دیر تک چپ چاپ بیٹھے رہے جب قرآن تفسیر کے بعد اٹھایا گیا تو ان ولایتیوں نے حضرت اقدس علیہ السلام۔مصافحہ کیا اور ہاتھوں کو آپ کے بوسہ دیا۔اور عرض کیا کہ لوگوں نے ہمیں دھوکا دیا۔جو آپ کو کافر کہتے ہیں وہ خود کافر ہیں اور جو تم مسلمان نہیں تو کوئی بھی مسلمان نہیں پھر وہ باہر جا کے لوگوں سے لڑے لوگوں نے کہا کہ مرزا جادو گر ہے جو اس کے پاس جاتا ہے وہ اس کا ہو رہتا ہے اس کے پاس کوئی مت جاؤ۔ایک روز لاہور سے ایک کسی شخص کا خط آیا اس میں یہ لکھا تھا کہ اگر آپ مسیح کو زندہ مان لیتے تو آپ کا کیا بگڑ جاتا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس خط کو پڑھ کر فرمایا کہ اس خط کا جواب صاحبزادہ صاحب یہ لکھدو کہ اگر تم مسیح کو وفات