تذکرۃ المہدی — Page 48
مذكرة المحمدي 48 بہت سے فرشتے دیکھے کہ بہت خوبصورت لباس فاخرہ اور مکلف پہنے ہوئے وجد کرتے اور گاتے ہیں اور ہماری طرف بار بار چکر لگاتے ہیں اور ہر چکر میں ہماری طرف کہا ہاتھ کر کے ایک غزل کا شعر پڑہتے ہیں اور اس مصرعہ کا آخری لفظ پیر پیراں ہے وہ تین ہمارے منہ کے سامنے ہاتھ کر کے ہماری طرف اشارہ کرتے ہیں پیر پیراں۔اب اس پادری کو معلوم ہو جاوے گا کہ اسلام کیسا ہا برکت مہ جب ہے کہ جس سے ایک نہ دو نہ دس بلکہ لاکھوں کروڑوں دلی بن گئے محمد خاتم الانبیاء کی پیروی اور اتباع سے ایسے ولی کامل ہوئے کہ جن کا شمار نہیں اور بہت مسیح علیہ السلام سے بڑھ چڑھ کر ہوئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ علَمَاهُ امَّتِي كَانَبِيَاءِ بَنِي إِسْرَ انِیل یہ اس کا ترجمہ ہے کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کاف تشبیہ کا ہے کبھی زیادتی اور ترقی کے لئے اور کبھی برابری کے لئے بھی آتا ہے اور تعداد میں بھی مستعمل ہوتا ہے اور انبیاء بنی اسرائیل میں مسیح بھی داخل ہیں جیسے آنحضرت مثیل موسیٰ ہیں یعنی موسی علیہ السلام سے بڑھ کر ہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ کے علماء خلفاء موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ خلفاء سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کتاب کا جواب لکھنا شروع کیا جب دو صفحے کتاب کے لکھے تو باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ صاحب زادہ صاحب ہم نے اس کتاب کا نام تمہارے نام پر نور الحق رکھ دیا ہے ابھی پانچ چار صفحے کتاب کے لکھے گئے تھے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو سخت تکلیف اور دوران سر لاحق ہوئی جس سے تین روز تک نماز کے لئے مسجد میں نہ آسکے چوتھے روز حضرت اقدس صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے اور بمشکل بیٹھ کر نماز جماعت کے ساتھ ادا کی اور میں آپ کے ساتھ اول صف میں کھڑا تھا جو حضرت اقدس پینہ میں فرق تھے میں سمجھا کہ آج ضرور وحی کا دن ہے اور چہرہ ایسا منور ہوا کہ فوٹو