تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 306 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 306

تذكرة المهدي 306 حصہ دوم طول کر یہ نہیں فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب نبی اور رسول ہمیں مت لکھا کرو۔شیخ یوسف علی تشامی مرحوم و مغفور نے ایک دفعہ آپ کے قدموں کو مسجد مبارک میں بوسہ دیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ منع ہے ایسا نہیں چاہتے تو اس ایک فعل کو آپ نے ناجائز سمجھ کر منع فرمایا اور میں بار بار برسوں یا نبی اللہ یا رسول اللہ آپ کو لکھتا رہا کبھی بھی منع نہ فرمایا۔۔ایک شخص ضعیف العمر جواب وہ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہے اپنی موت سے چند روز پہلے گول کمرہ کے سامنے کچھ دن کے لئے اپنے وطن مالیر کوٹلہ جانے کی اجازت طلب کر رہا تھا شیخ غلام احمد صاحب واعظ مولوی محمد علی صاحب مولوی عبد الكريم صاحب مرحوم میاں غلام حسین صاحب رہتای حال قادیان اور خاکسار اور اور احباب بھی تھے۔آپ نے فرمایا اب تم ضعیف ہو گئے اور بیمار بھی ہو مت جاؤ زندگی کا اعتبار نہیں اس نے کہا تو خدا کا رسول ہے تو سچا رسول ہے تو بے شک خدا کا رسول ہے میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور صدق دل سے تجھے خدا کا رسول مانا ہے میں تیری نافرمانی اور حکم عدولی کو کفر سمجھتا ہوں بار بار یہ کہتا تھا اور دایاں ہاتھ اٹھا کے اور انگلی سے آپ کی طرف اشارہ کر کے بڑے جوش سے کہتا تھا اور آپ اس کی باتوں کو سن کر بار بار ہنتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ بس اب آرام کرو اور یہیں رہو جانے کا نام مت لو۔اس کی آنکھوں سے پانی جاری تھا۔یہ کہتا ہو ا مہمان خانہ کو لوٹا کہ اللہ کے رسول کا فرمانا بچشم منظور ہے۔ایک صوفی سجادہ نشین نے مجھے خط لکھا کہ مجھے کشف میں بڑا تجربہ ہے اگر مرزا صاحب کو یہ طاقت ہے کہ وہ اہل قبور سے باتیں کرا سکیں تو وہ جس قبر کو میں کہوں اس سے باتیں کر کے اس کا حال دریافت کریں اور بتادیں ورنہ میں بتلادوں گا میں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا اور وہ خط دکھایا آپ اس خط کو ہاتھ میں لے کر بہت ہے اور فرمایا جو حیسی و قیوم خدا سے رو ز باتیں کرتا ہے اس کو مردوں سے باتیں کرنے کی کیا غرض ہے یا یہ فرمایا کہ کیا مطلب