تذکرۃ المہدی — Page 219
تذكرة المهدي 219 و جال یعنی پادریوں کے وقت میں لکھا ہے پس جو کام مسیح موعود کا لکھا ہے وہ اس جگہ اکثر حصہ اس کا پورا ہوا اور وہ جو لکھا ہے کہ ستر ہزار یہود ستر ہزار سے مراد اکثر ہے) وجال کے ساتھ ہو جاویں گے سو دہلی کے یہودیوں نے اس پیشگوئی کو پورا کر دکھایا کہ تمام مسلمان یہود سیرت مقلد و غیر مقلد شیعہ وہابی پادری سب ایک ہو گئے اور دمشق میں ہی جنگ مسیح لکھا ہے سو وہ جنگ بھی یہاں ہو ا یعنی مولوی بشیر سہسوانی و بھوپالی سے مباحثہ ہوا اور سب نے مل کر اگرچہ غیر مقلدوں کا تو مولوی نذیر حسین امیر تھا ہی لیکن مقلدوں اور شیعوں نے بھی مولوی نذیر حسین دہلوی کو اپنا امیر و پیشوا بنایا اور یہاں تک یہ ایک جان اور ایک دل اور ایک خیال ہوئے کہ ان میں کوئی تمیز نہ رہی کہ کوئی فرقہ بھی ان میں ہے اور جو حدیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں ایک فرقہ ہو جاوے گا اور - مل جل کر ہم خیال ہو جاویں گے سو وہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جتنے فرقے تھے سب ایک خیال میں شیر و شکر ہو گئے اور آپس کے قصے اور جھگڑے اور جنگ سب وجدال اور بحث مباحثے چھوڑ دیئے اور آپس میں ایک جان دو قالب بن گئے۔مخالفوں کی طرف سے اشتہار پر اشتہار حشرات الارض برساتی کیڑوں مکوڑوں کی طرح نکلنے لگے اور تمام نے جھوٹ پر کمر باندھ لی اور مخالفت کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔اور حضرت اقدس علیہ السلام کے اشتہار چھاپنے بھی بند کز دیئے۔ہندوؤں کو حالانکہ اس بات سے تعلق نہ تھا لیکن ہندوؤں نے بھی ان یہودیوں اور پادریوں کا ساتھ دیا کوئی کتاب دیکھنے کے واسطے اگر دیکھنی پڑتی تو کتاب بھی نہیں دیتے تھے حضرت اقدس علیہ السلام نے چاہا کہ کچھ کتابیں یوں تو ملتی نہیں خرید لی جاویں سوکتب فروشوں نے کتابیں فروخت کرنی بند کر دیں۔قیمتا بھی نہ دیں حالانکہ ہم چوگنی اور پچگنی قیمت دینے کو تیار تھے جب مولوی بشیر سے اگلے روز مباحثہ ٹھرا تو کتابوں کی سخت ضرورت ہوئی پر نہ ملی حضرت اقدس علیہ السلام نے خاکسار کو زنانہ مکان میں بلوایا اور فرمایا۔صاحبزادہ صاحب تمہارے والد