تذکرۃ المہدی — Page 215
تذكرة المهدي 215 حسب الارشاد آپ کے پاس آیا ہوں کہ جو میں نے آپ کی نسبت گستاخی کی یا کلمات بیجا کہے ہیں ان کی معافی چاہتا ہوں مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے اللہ کے واسطے معاف کیا۔اب جو قادیان جاؤ تو حضرت مرزا صاحب سے میرا سلام مسنون کردیتا۔پھر میں چلا آیا۔ایک شبہ کا ازالہ اس بات سے کوئی شش و پنج میں نہ پڑے کہ مولوی صاحب جو ولی اللہ تھے اور خدا کے مامور مرسل نے بھی ولی اللہ کہا اور وہ حسن ظن رکھتے تھے تو پھر مخالفت کیسی اور وہ ہامان کیوں ہوا۔اور دنیا سے وہ بغیر تصدیق مسیح موعود کیوں گیا بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور الوالعزم نبی صاحب شریعت کے وقت میں بلعم بن باعور ایک ولی اللہ تھا لکھا ہے کہ اس کے ستر ہزار ابدال مرید تھے مگر خدا کے مرسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب یا مقابلہ کرنے سے وہ کافر ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو کتا کہا اسی طرح سے یہ معاملہ ہوا بلغم اپنی عورت کے بہکانے اور بادشاہ کے لالچ دینے سے حضرت موسیٰ کا مقابلہ کر بیٹھا اسی طرح مولوی نذیر حسین مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ کے بہکانے اور ورغلانے سے زیانکاروں میں ہوا اس سے بھی ثابت ہوا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی یقینا یقینا یہودا اسکر یوطی ہے۔میں نے قادیان میں بہت سی بوڑھی عورتوں سے اور ہندوؤں سے اور مسلمانوں سے آپ کا چال چلن پوچھا اور حالات ابتدائی اور درمیانی عمر کے دریافت کئے کسی نے آپ کی نسبت سوائے خیر اور تعریف کے ایسی بات نہ بیان کی کہ جس سے آپ پر کوئی وصبہ آئے۔میں ایک ہفتہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں رہا۔پھر بمشکل تمام رخصت لے کر چلدیا۔آمدم بر سر مطلب میں لدھیانہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت به میں دو تین ماہ رہا اور پھر رخصت ہو کر ہانسی آیا اور ہانسی سے کوٹ پو تلی علاقہ جے پور پہنچ گیا کوئی ایک ماہ کا عرصہ گزرا ہو گا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے