تذکرۃ المہدی — Page 211
تذكرة المهدى 211 ہے وہ جو بات بنا کر جھوٹ بولے ہم واپس مکان پر آگئے اور سورج کچھ اوپر ہی تھا اور ہمیں بالکل امید نہ تھی کہ سورج اوپر رہے اور ہم مکان پر پہنچ کر نماز مغرب ادا کریں یہ اس وقت عجیب نظارہ تھا اور یہ ایک معجزہ تھا جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب مکان پر آئے تو با فراغت وضو کیا اور نماز مغرب ادا کی ہمیں گمان تھا کہ ہم عشاء کی نماز کے وقت مکان پر پہنچیں گے ایک مادی شخص اور اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب قدرتوں پر ایمان نہ لانے والا شخص جو چاہے سو کے لیکن اللہ تعالی جو قادر مطلق ہے اور جو چاہتا ہے سو کرتا ہے اس نے اپنی قدرت دکھلائی میں نہیں جانتا کہ سورج کھڑا رہا یا زمین چھوٹی ہو گئی یا کیا وجہ ہوئی کہ لمبے عرصہ کی راہ کو چند منٹ میں ہم نے طے کر لیا اور معلوم بھی نہیں ہوا۔اس قادر مطلق کی طاقتوں اور قوتوں اور قدرتوں میں عجیب اسرار پنہانی ہیں کہ جو نہ لکھنے میں آسکتے ہیں نہ بیان میں نہ تحریر میں وہ ذات پاک اور اس کے بھیجے ہوئے ایسی ہی قوت اور قدرت سے پہچانے جاتے ہیں ہم نے آپ کی ۲۵ سالہ صحبت میں تقلیدی خدا نہیں مانا نہیں پہچانا نہیں جاتا بلکہ حقیقی اور تحقیقی خدا مانا اور دیکھا اور معلوم ہو گیا کہ خدا ہے اور بے شک ہے وہ جو چاہتا ہے سو کر سکتا ہے اور جو چاہا سو کیا اور جو چاہے گا سو کرے گا بد بخت ہیں وہ انسان اور بڑے محروم اور بد قسمت ہیں وہ آدمی کہ خدا ظاہر ہوا اور اپنے مرسل کو بھیجا اور پھر انہوں نے نہیں مانا قادیان کی زمین قادیان کی گلیوں قادیان کے صحرا جنگل میں پنجاب میں ہندوستان میں کابل میں امریکہ میں عرب میں یورپ میں ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں نشان الہی ظاہر ہوئے مگر اندھی آنکھوں نے نہ دیکھا اور مردار جسموں نے نہ مانا اور مردہ روحوں نے نہ محسوس کیا۔ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ یہودا اسکریوطی بود اسکریوطی یہ الہام کیا یا ہوا وہ یوں ہوا کہ جیسے میں نے اپنے کشف میں آنحضرت ﷺ کی زیارت کی اور مولوی محمد حسین