تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 198 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 198

تذكرة المهدي 198 حصہ اول ساتھ ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اس روز تو کوئی تھوڑی سی باتیں غیر متعلق ہوتی رہیں۔دوسرے روز وہ پھر آیا اور مغرب کی نماز مسجد مبارک میں اس نے پڑھی اور بعد نماز شام اس نے اپنا دعوئی مہدویت پیش کیا اور ایک حدیث اپنے دعوئی مہدویت میں بیان کی لیکن اس کا ترجمہ اور جب اصل مانگی گئی تو کہا کہ مشکوۃ شریف میں ہے مشکوۃ شریف منگوائی گئی اس نے بہت سی ورق گردانی کر کے کہا کہ تم نکال دو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت فاضل امرد ہی سلمہ یا حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام نے مشکوۃ شریف ہاتھ میں لے کر کھولی اور حدیث نکالنی چاہی لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے منع کردیا اور فرمایا ہمیں تمہیں کیا غرض ہے جو حدیث نکالیں ان کو خود ہی نکالنی چاہئے جو مدعی ہے تاکہ ہم اس کا علم بھی دیکھ لیں اور حدیث دائی معلوم کرلیں پھر کتاب بند کر کے اس کے ہاتھ میں دیدی اس کے ہاتھ کانپ گئے اور زبان میں لکنت پیدا ہو گئی حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے دعوئی کے ثبوت پیش کئے اور بڑے زور سے تقریر کی اس تقریر اور ثبوت کو سن کر ایک سید صاحب جو پہلے عیسائی تھے اور عیسائیت میں شاید شادی بھی کرلی تھی وہ معہ بیوی کے حضرت اقدس علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان اور بیعت ہوئے تھے اور وہ شاید جہلم کی ظرف کے رہنے والے تھے ایک ایسا وجد آیا کہ جیسے صوفی قوالی میں لوٹتے ہیں اور ان پر اس لذت میں اپنی بے ہوشی ہوئی کہ کچھ کسی کی خبر نہ رہی اس مدعی کاذب نے اس تقریر اور ثبوت کی جو حضرت اقدس علیہ السلام نے بیان کئے تھے تکذیب کی اور اس کی زبان سے یہ لفظ نکلا کہ تو جھوٹ بولتا ہے اور تیرا دعویٰ جھوٹا ہے پس اس سید نے اٹھ کر ایک ایسی دو ہنٹر ا سکی کمر میں ماری کہ وہ دہرا ہو گیا۔اور چلا اٹھا۔پھر لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور میں نے اس مدعی کاذب کو اپنی طرف کھینچ لیا پس اس نے گھبرا کر لڑکھڑائی ہوئی زبان سے کہا کہ حضرت مجھ کو میرے جائے فرد گاہ تک پہنچا دو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ دو آدی