تذکرۃ المہدی — Page 18
تذكرة المهدى 18 نام میں ذرا تکلف اور نزاکت ہے اور اس کا رنگ بھی زرد ہوتا ہے اس لئے زردہ نام رکھ لیا۔فرمایا ہندوستانی بھی تکلف اور نزاکت پر مرتے ہیں۔ان کو معاد کا کوئی فکر نہیں ہے فرمایا اگر نہ کھاؤ تو کیا ہو میں نے عرض کیا کہ پہلے جب میں خالی بغیر زردہ کے پان کھاتا تھا تو زردہ ذرا سا بھی پان میں پڑ جاتا تھا یا چھالیہ میں مل جاتا تو چکر آجاتا تھا اور اب جو دانتوں کے درد کے واسطے کھانے لگا تو بغیر زردہ کے مزہ ہی نہیں آتا ہے پان پھیکا بد مزہ معلوم ہوتا ہے۔فرمایا ہاں کھانے والے یہی کہا کرتے ہیں پھر دوبارہ حضور جلدی جلدی بالاخانہ سے نیچے زنانہ میں گئے اور حضرت ام المومنین سے فرمایا کہ پانوں میں زردہ تو نہیں ہے صاحبزادہ صاحب منہ میں پان لئے بیٹھے ہیں جلدی زرده در جلدی میں حضرت اقدس علیہ السلام ہاتھ ہی میں زردہ لے کر آئے اور فرمایا لو صاحبزادہ صاحب زردہ بھی لو کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو وہ بھی کہو میں نے عرض کیا کہ روشنی کم ہے پھر حضور نیچے مکان میں تشریف لے گئے اور دس بارہ موم بتی لیکر آئے اور فرمایا تم لکھے جاؤ ہم روشن کردیں گے سو حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے چار بھی یکدم روشن کر دیں اور باقی میرے پاس رکھ دیں اور آپ قصیدہ لکھنے میں مشغول ہو گئے۔الغرض میرا چار روز تک لدھیانہ میں قیام رہا اور جہاں بھائی صاحب ٹھہرے ہوئے تھے وہیں میں بھی ٹہرا چار روز کے بعد ہم دونوں بھائی سرسادہ کو روانہ ہوئے اور جو مقدمہ کی نسبت بات نکلی تھی وہ بھی درست ہو گئی۔راسخ دہلی سرسادہ سے سہارنپور سات کو س ہے وہاں گیا اسٹیشن پر ایک صاحب امیر کبیر کی عالیشان کو ٹھی اور باغیچہ ہے ان سے میرا تعارف تھا اور انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ جب سہارنپور آؤ تو مجھ سے ضرور ملنا۔اور یہ وعدہ دار الامان میں ہوا تھا ایک دفعہ وہ دار الامان معه مولوی عبدالرحمن صاحب راسخ دہلوی متوفی گئے تھے ان مولوی عبد الرحمن صاحب سے