تذکرۃ المہدی — Page 167
تذكرة المهدى 167 حصہ الدین سلمہ اللہ تعالی کو ایسا وجد ہوا کہ وجد کی حالت میں کھڑے ہو گئے۔اور ایک چکر لگایا لیکن اس بد قسمت ترش رو عباس علی نے انکار ہی کیا اور حضرت اقدس علیہ السلام نے بڑی مدلل اور مبسوط تقریر فرما کر سمجھایا جب مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے دیکھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام اس قدر شفقت سے سمجھاتے تھے اور اپنے صدق پر اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتے ہیں اور قسم کھاتے ہیں تو انہوں نے اٹھ کر کہا کہ بس حضرت جانے دیجئے یہ مردود ہو چکا۔پھر عباس علی کو بڑے غصہ سے کہا کہ اوگستاخ را ئیں بچے تیری یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کا مرسل اور مامور اور مسیح تو محبت سے بولتا ہے اور تیری گستاخی بڑھتی ہے چل بد معاش اور نکل بہت تیری ایسی تیسی کریں۔بہت سرچڑھ گیا ہے محمد حسن و محمد حسین ہی دابتہ الارض تیرے ہاتھ چومیں گے اور رائیں بچہ کو سید بنادیں گے بس عباس علی تو اس دھمکی سے کافور ہو گیا۔اور اٹھ کر چلدیا اور حضرت اقدس علیہ السلام خاموش ہو گئے پھر عباس علی روز بروز قسی القلب ہو تا گیا۔یہاں تک کہ اس نے مخالفت کا اشتہار دیا اور ذلت کی موت سے مرا اور ایسا ہی مولوی شاہدین مجنون اور محتل الحواس ہو کر مرا۔اور وہ تینوں مولوی ذی ثلث شعب بھی بری حالت میں اور مقدمات میں گرفتار ہو کر ذلت کی موت سے مرے ان پر مقدمات قائم ہوئے اور گرفتار ہوئے یہ ہے ذلت جو خدا کے مرسل کے ساتھ مخالفت کرنے سے ہوا کرتی ہے اور ادھر حضرت اقدس علیہ السلام کی دن دونی رات چوگنی عزت و حرمت بڑھتی رہی روز بروز جماعت بڑھتی گئی وَ اللَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ایک روز مولوی محمد حسین نے جب عباس علی پر قابو پالیا اور وہ مذبذب گیا۔میری طرف بھی متوجہ ہوئے یہاں تو اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ مسلطان کانوں میں پڑی ہوئی تھی کہ فرمودہ الہی صادق ہے مجھے کہلا کر بھیجا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب مجھے آپ کی خدمت میں کچھ علیحدہ تخلیہ میں عرض کرنا