تذکرۃ المہدی — Page 139
تذكرة المهدى 139 اقدس علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے سامنے یہ حدیث شریف دوبارہ بڑے زور سے پڑھی اور عرض کیا کہ میں اس وقت بموجب حکم آنحضرت آنحضرت کا سلام کہتا ہوں اور میں بھی اپنی طرف سے اسی حیثیت کا جو سلام کہنے والے نے سلام کہا اور جس کو جس حیثیت سے کہا گیا سلام کہتا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس وقت ایک عجیب لہجہ اور عجیب آواز سے وعلیکم السلام فرمایا کہ دل سننے کی تاب نہ لائے اور مولوی صاحب مرغ بل کی طرح تڑپنے لگے۔اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کے چہرہ مبارک کا بھی اور ہی نقشہ تھا جس کو میں پورے طور سے تحریر میں نہیں بیان کر سکتا۔حاضرین و سامعین کا بھی ایک عجیب سرور سے پر حال تھا پھر مولوی صاحب نے کہا که اولیاء علما امت نے سلام کہلا بھیجا اور اس کے انتظار میں چل بسے آج اللہ ، تعالیٰ کا نوشتہ اور وعدہ پورا ہوا۔یہ غلام نبی اس کو کیسے چھوڑے یہ مسیح موعود ہیں اور یہی امام مہدی موعود ہیں یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ اور مسیح ابن مریم موسوی مر گئے مرگئے مرگئے بلاشک مر گئے۔وہ نہیں آئیں گے آنیوالے آگئے آگئے آگئے بے شک وشبہ آگئے تم جاؤ یا میری طرح سے آپ کے مبارک قدموں میں گرو تاکہ نجات پاؤ اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور رسول تم سے خوش۔منتظرین بیرون در کو جب یہ پیغام مولوی صاحب کا پہنچا تو کیا مولوی ملا اور کیا خاص اور عام سب کی زبان سے کافر کافر کافر کا شور بلند ہوا۔اور گالیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور سب لوگ تقریر منتشر ہو گئے اور بُرا برا کہتے ہوئے ادھر ادھر گلیوں میں بھاگ گئے جو کہتے تھے کہ مرزا صاحب جادو گر ہے ان کی چڑھ بنی۔مولوی صاحبان شرم کے مارے گردن نیچی کئے ہوئے کہتے چلے جاتے تھے کہ غلام نبی ایک طالب علم تھا اور تھا کیا؟ ہم سے مقابل ہو تو پھر دیکھنا۔مرزا کو جواب نہ بن پڑے۔اتفاقاً ہمارے بھائی ماسٹر صاحب احمدی ادھر سے آتے تھے جب یہ بات انہوں نے مولویوں سے سنی تو کہنے لگے کہ چلو مرزا صاحب تو موجود ہیں۔