تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 114 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 114

تذكرة المهدى 114 مخالف لوگ اگر غور کریں اور اپنے بستروں پر لیٹ کر اور تخلیوں میں بیٹھ کر سوچیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ جیسا انبیاء میہم الصلوۃ والسلام کا دعوی الله تعالی کے حکم اور فرمودہ سے تھا بعینہ اسی طرح میرا دعوئی عین وقت پر اللہ جل شانہ کے فرمودہ سے ہے اور لوگوں کے سامنے اتنی نظیریں متقدمین کی موجود ہیں کہ اگر سب ایک جگہ لکھی جائیں تو لکھ نہیں سکتے ہم تھک جائیں مگر وہ ختم نہ ہوں پس ان کو ان نظائر پر غور کرنے سے صاف صاف کھل جاوے اور ظاہر و با ہر ہو جاوے کہ میں اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے اپنے دعوئی میں کاذب نہیں مفتری نہیں ہوں۔بلکہ صادق ہوں راست باز ہوں۔فرمایا ایک جنگل میں ایک بھیڑیا ایک گیدڑ اور ایک نتیجہ خیز حکایت ایک شیر رہا کرتے تھے شیر جب شکار کرتا تو گیدڑ اور بھیڑیا بھی کھا لیا کرتے بھیڑئے کے دل میں ایک دن شرارت آئی اور شیر سے کہا کہ شکار کے تین حصے کیجئے ایک حصہ تو آپ کا اور ایک گیدڑ کا۔اور ایک میرا شیر کو اس تقسیم مساوی سے سخت غصہ آیا اور کہا مردود ناہنجار تو تقسیم کرنے والا کون ہے میں سردار ہوں بادشاہ ہوں میرا اختیار ہے جس کو جتنا چاہوں دوں یہ کہہ کر ایک تھپڑر شیر نے بھیڑیے کے مارا وہ چکر کھا کر گرا اور مرگیا پھر شیر نے گیدڑ سے پوچھا کہ ہم تم اس وقت دونوں ہیں کیا کرنا چاہئے آیا تقسیم کر کے یا موافق دستور سابق۔گیدڑ نے عرض کیا کہ حضور غریب نواز آپ سردار ہیں اور ہمارے آقا ہیں مالک ہیں۔بادشاہ ہیں حضور کے سامنے بولنا گستاخی دبے ادبی ہے۔لیکن حضور کے ارشاد کے نیچے یہ عرض ہے کہ ہم خادم ہیں رعیت ہیں اور غلام ہیں تقسیم کی کیا ضرورت ہے پہلے جتنا حضور کی خواہش ہو نوش فرمالیں اور کچھ رکھ دیویں پھر دوسرے وقت پر حضور مقاول فرما دیں اور جس وقت حضور کو رغبت نہ ہو اور بیچ رہے تو خادموں کو عنایت ہو جائے کہ شاہوں کا پس خوردہ مبارک اور عزت کا باعث ہے یہ بھی حضور کی مرضی مبارک پر منحصر ہے ہم