تذکرۃ المہدی — Page 96
تذكرة المهدى 96 پلاتے ہی اس مرحوم نے آنکھیں کھول دیں اور کچھ ہوش و حواس درست ہوئے تو میں نے سارا قصہ سنایا مرحوم بہت خوش ہوا پھر میں اپنے مکان پر چلا گیا صبح کو قبل از نماز صبح حضرت اقدس علیہ السلام نے مجھ کو مکان پر بلوایا اور فرمایا یوسف علی صاحب کا کیا حال ہے صاحبزادہ صاحب تم نے ہمیں اطلاع نہ دی۔سراج: حضور اطلاع کیا دیتا ادھر آپ نے روادی اور ادھر دعا شروع کی دوا کا پلانا تھا اور شفا کا ہونا تھا اب اللہ تعالی کا فضل ہے پوری تندرستی عود کر آئی۔فرمایا : صاحبزادہ صاحب جب وہ دوا لے کر تم روانہ ہوئے تو ہم کو نیند نہ آئی دعاؤں میں لگ گئے اور تمہارا خیال رہا کہ اب خبر لاتے ہو گے اور ہمارے کان آدمیوں کی طرف لگے رہے کہ کون خبر لاتا ہے عین دعا کے وقت ذراسی غنودگی میں ایک خواب دیکھا اور ایک الہام مبشر ہوا جو خاص یوسف علی صاحب کی نسبت ہے اور فرمایا بعد نماز سیر کو چلیں گے اس وقت وہ خواب اور الہام نائیں گے۔بعد نماز حضرت اقدس علیہ السلام میر کو تشریف لے چلے حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی اور جناب ڈاکٹر رشید الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب تراب وغیر ہم بہت سے اصحاب ساتھ تھے راستہ میں وہ خواب اور الہام سنایا اور یہی ذکر بار بار بڑے وثوق سے فرماتے رہے اور فرمایا اس بیماری میں یوسف علی صاحب نہیں مریں گے اور پورے شفایاب ہو جائیں گے میر سے واپسی کے وقت معہ تمام اصحاب یوسف علی صاحب کے پاس تشریف لے گئے اور اپنی زبان مبارک سے وہ خواب اور الهام یوسف علی صاحب کو سنایا اس وقت خاکسار کو وہ خواب اور الہام یاد نہیں رہا شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے اپنے اخبار الحکم میں چھاپ دیا ہے۔میں نے ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا کہ وہ کیا بات ہے