تذکرۃ المہدی — Page 85
تذكرة المهدي 85 اول یوسف : غلام احمد کیوں نام ہو ا ولد احمد یا ابن احمد کیوں نام نہ ہوا سراج : غلام احمد نام رکھنے میں یہ خوبی ہے کہ ولد کی نسبت غلام زیادہ مناسبت رکھتا ہے ولد تو نا فرمان بھی ہو جائے اور ہوتا ہے مگر غلام فرمانبردار اور مطیع اور باپ کے نقش و نگار اپنے اندر رکھتا ہے اور باپ کے رنگ میں رنگین ہوتا ہے حضرت ابراہیم ذکر یا حضرت مریم وغیرہ ہم علیہم السلام کو بشار میں اولاد کی دی گئیں سب جگہ غلام ہی فرمایا اور وہ مطیع بھی ہوئے۔مسکینی ہے یوسف : خیر یہ تو جو ہوا سو ہوا مگر ہمارا تماشا جو ایک سال خوش کن تھیٹر اور عجیب منظر تھا اور تمام لوگوں کا حضرت مرزا صاحب نے اور آپ نے خاک میں ملادیا کیسا سماں نظروں میں سمایا ہوا تھا کہ پہلے امام مہدی آویں اور خزانے بانٹیں روپیہ دیں اشرفیاں لٹائیں لشکر جرار اور سپاہ بے شمار تیار کریں اور ادھر آسمان سے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ ہتھلیاں رکھے لٹکتے ہوئے اور زرد کپڑے پہنے ہوئے مسیح آرہے ہیں اور مسجد کی چھت پر آبیٹھتے ہیں پھر سیڑھی منگوا کر اس کے ذریعہ سے نیچے اترتے ہیں مہدی ومسیح گلے ملکر باتیں کرتے ہیں ادھر سے نصاری ادھر سے دجال جنگی باجے بجاتے ہوئے معہ خدم و حشم لڑنے کے لئے آرہے ہیں اور جنگ ہو رہے ہیں اب نہ جنگ ہے نہ تیر و تفنگ ہے - فقیری ہے در دیشی ہے ہماری تمام امیدوں آرزووں پر پانی پھیر دیا ہے۔سراج: یہ تو سب ادہام باطلہ کا ایک تو وہ طوفان ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے پہلے رومیوں کی ایک چھوٹی سی سلطنت اور تھوڑے سے یہودیوں کے مقابلہ پر کچھ نہ کر کے دکھایا پکڑے گئے ماریں کھائیں سولی پر چڑھائے گئے ملک در ملک بھاگے پھرے اور وہ جوانی کے دن تھے اور اب پیر فرتوت ہو کر نہ منہ میں دانت اور نہ پیٹ میں آنت کیا کرلیں گے کسی نے یا علی مدد یا علی مدد کے نعرے لگائے ایک شخص نے کہا کہ آپ ابن حجم کے مقابلہ میں اپنی مدد نہ کر سکے کربلا میں مکانا و زماناً جو واقعہ گذرا مدد نہ کر سکے اب تیرہ سو برس بعد تیری کیا مدد کریں گے بات